حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 82 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 82

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 82 بچپن میں کیا گیا حفظ پختہ رہتا ہے، بڑی عمر کا نہیں : عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ الله الله : حِفْظُ الْغُلَامِ الْصَغِيْرِ كَالنَّقْشِ فِي الْحَجَرِ ، وَحِفْظُ الرَّجُلِ بَعْدَ مَا يَكْبُرُ كَالْكِتَابِ عَلَى الْمَاءِ۔(الجامع لأخلاق الراوى و آداب السامع للخطيب البغدادى من كان يخص بالتحديث الشبان ويؤثرهم على المشايخ وذوى الأسنان، جزء2 صفحه 264) ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوٹے بچے کا لڑکپن میں ) حفظ کرنا ایسا ہے جیسے پتھر پر لکیر کھینچ دی جائے جبکہ بڑی عمر میں حفظ کرنا ایسا ہے جیسے پانی پر کچھ لکھ دیا جائے۔( یعنی پانی پر لکھا ہوا تو قائم نہیں رہ سکتا جبکہ پتھر پر پھنچی ہوئی لکیر کبھی مٹی نہیں ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”یہ بات بھی غور کرنے کے قابل ہے کہ دینی علوم کی تحصیل کے لیے طفولیت کا زمانہ بہت ہی مناسب اور موزوں ہے۔جب داڑھی نکل آئی تب ضَرَبَ يَضْرِبُ یاد کرنے بیٹھے تو کیا خاک ہوگا۔طفولیت کا حافظہ تیز ہوتا ہے۔انسانی عمر کے کسی دوسرے حصہ میں ایسا حافظہ کبھی بھی نہیں ہوتا۔“ کم عمری میں حفظ کرنے کی مثالیں: (ملفوظات جلد اول صفحه (44) قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ (بخاری، کتاب فضائل القرآن باب تعليم الصبيان القرآن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اس وقت میری دس سال کی عمر تھی اور میں محکم ( مفصل ) سورتیں حفظ کر چکا تھا۔حضرت عمر و بن سلمہ سے روایت ہے : عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ۔۔۔كُنَّا بِمَاء مَمَرَّ النَّاسِ وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ