حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 58
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات حفاظ سے خدا اور بندوں کی محبت : 58 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ : ”جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔دراصل یہ تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہے۔چنانچہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَا حَامِلَ الْقُرْآنِ إِنَّ أَهْلَ السَّمَوَاتِ يَذْكُرُوْنَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ فَتُحَيِّبُوْا إِلَى اللَّهِ بِتَوْقِيْرِ كِتَابِهِ لِيَزْدِدْ لَكُمْ حُبًّا وَيُحْبِبْكُمْ إِلَى عِبَادِهِ۔(فردوس الاخبار الدیلمی، جلد 5 صفحه 393، حدیث نمبر 8263) ترجمہ: اے حاملِ قرآن کریم ! کتاب اللہ کی عزت قائم کرنے کی وجہ سے آسمانوں پر بسنے والے، اللہ عزوجل کے حضور تمہارا ذکر کرتے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت کا اضافہ کر دے اور اپنے عبادت گزار بندوں کا محبوب بنا دے۔خدا تعالیٰ کا حفاظ پر فخر : حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: يُؤْتَى بِحَمَلَةِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُوْلُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ اَنْتُمْ وِعَاءُ كَلَامِيْ أَخَذْتُمْ بِمَا لا أَخَذَبِهِ الْأَنْبِيَاء إِلَّا بِاالْوَحْي۔(فردوس الاخبار الدیلمی، جلد 5، صفحه 460، حدیث نمبر 8476) ترجمہ: قیامت والے دن حفاظ قرآن سے مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم میرے کلام کے حفاظ ہو۔پس تم نے وہ کچھ اخذ کیا ہے جو میرے انبیاء علیہم السلام نے لیا فرق صرف یہ ہے کہ تم پر وحی نہیں کی گئی۔