حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 39
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 39 حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل نور الله مرقدة ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ان چاروں آیتوں میں قرآن شریف کے کاتبوں، قاریوں، حافظوں کی عظمت ،خود قرآن شریف کی عظمت اور اسلام کے لیے آئندہ زمانہ میں شان و شوکت کی پیش گوئی بڑی شدومد سے بیان ہوئی ہے۔گو ان سے مراد ملا لگتہ اللہ بھی ہیں۔“ فرماتے ہیں: ہیں: حقائق الفرقان، جلد چهارم، صفحه 328) حضرت خلیفہ اسیح الثاني نور الله مرقدہ ان آیات کی تفسیر میں غیر صغیر (سورۃ عبس ) میں یعنی صحابہ قرآن مجید کو لے کر دور دور پھیل جائیں گے (اور ) قرآن مجید کی برکت سے صحابہ بڑی بڑی عزتیں پائیں گے اور نیکیوں میں ترقی کریں گے۔" پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ ان آیات کی تفسیر میں تفسیر کبیر میں فرماتے قرآن ایسے صحیفوں میں ہے جو مکرمہ ہیں، مرفوعہ ہیں اور مطہرہ ہیں۔یہاں ایک لطیف قرآنی ترتیب کا منظر پیش کیا گیا ہے کہ ایک طرف تو قرآن کی یہ تین صفات بیان کی گئی ہیں: 1۔مكرمة 2۔مرفوعة 3۔مطهرة۔اور دوسری طرف وہ لوگ جنہوں حاملین قرآن (حفاظ ) بنا تھا اُن کی بھی تین صفات بیان کی گئی ہیں: 1۔سفرة 2۔کرام 3۔بررة قرآن ایسے ہی ہاتھوں میں ترقی کرے گا جو سفرۃ ہوں گے۔کرام ہوں گے اور بررة کے اوصاف اپنے اندر رکھتے ہوں گے خواہ وہ ظاہر طور پر بڑوں میں سے ہوں یا چھوٹوں میں سے، امیروں میں سے ہوں یا غریبوں میں سے۔“ ( تفسیر کبیر جلد هشتم صفحه 170 سورة عبس زير آيت في صحف مكرمة )