حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 35
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 35 ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح حافظ قرآن اور کثرت سے تلاوت کلام پاک کرنے والوں کی شفاعت قرآن کریم فرمائے گا اور قرآن کریم کی شفاعت پر صاحب قرآن اور کثرت سے تلاوت قرآن کریم کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک فرمایا جائے گا: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ حَلِهِ فَيُلْبَسُ تَاجَ الْكَرَامَةِ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ زِدْهُ فَيُلْبَسُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ ارْضَ عَنْهُ فَيَرْضَى عَنْهُ فَيُقَالُ لَهُ اقْرَأْ وَارُقَ وَتُزَادُ بِكُلّ آيَةٍ حَسَنَةٌ۔(ترمذی، کتاب فضائل القرآن باب فيمن قرأ حرفا من القرآن ماله من الأجر ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن قرآن کریم لایا جائے گا اور وہ کہے گا کہ اے میرے رب! حافظ قرآن کو حُلّہ پہنا دے، تو حافظ قرآن کو عزت کا تاج پہنایا جائے گا۔قرآن کریم کہے گا: اے اللہ ! اسے مزید کچھ عطا فرما۔جس پر اسے اور بھی لباس فاخرہ پہنایا جائے گا۔پھر قرآن کریم کہے گا: اے میرے رب ! اس سے راضی ہو جا۔تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا اور پھر صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن کریم پڑھتا جا اور درجات میں بڑھتا جا اور اس کی ہر ایک آیت کے بدلہ ایک نیکی زیادہ کی جائے گی۔حفاظ اشراف امت ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظ کرام کو فضیات کے اعتبار سے اپنی امت کے اشراف کا خطاب عطا فرمایا ہے یعنی امت میں سب سے زیادہ قابل تکریم وعزت احباب یہی ہیں جو قرآن کریم حفظ کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: