حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 33 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 33

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 33 سورۃ طہ اور یس پڑھی تو فرشتے سن کر کہنے لگے اس امت کے لیے مبارک ہو جس پر یہ سورتیں نازل ہوں گی اور مبارک ہو ان سینوں کے لیے جواس کلام کو یاد کریں گے اور مبارک ہو ان زبانوں کے لیے جو اس کی تلاوت کیا کریں گی۔ایک اور جگہ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل کا ذکر ہے۔روایت کچھ یوں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَرَأَ طه وَيسَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ بِأَلْفَيْ عَامٍ فَلَمَّا سَمِعَتِ الْمَلَائِكَةُ الْقُرْآنَ قَالَت طُوْبِي لِأُمَّةٍ يَنْزِلُ هَذَا عَلَيْهِمْ طُوْبِي لِأَلْسُنٍ تَتَكَلَّمُ بِهَذَا وَطُوبَى لأَجْوَافٍ تَحْمِلُ هَذَا (التوحيد لابن خزيمة، ذكر البيان من كتاب ربنا، جزء 1 صفحه 17 ، روایت 236 | جس نے قرآن کا کچھ حصہ بھی حفظ نہ کیا وہ ویران گھر کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت پر بوجھ نہیں ڈالا، نہ یہ حکم دیا کہ ساری اُمت قرآن کریم حفظ کرے لیکن ایسے ہی چھوڑ بھی نہیں دیا بلکہ ترغیب دلائی ہے کہ ہر امتی اس برکت سے فائدہ ضرور اٹھائے اور اس کو قرآن کریم کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور یاد ہو۔چنانچہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ۔(سنن الدارمی، کتاب فضائل القرآن، باب فضل من قرأ القرآن ترجمہ: یقیناً وہ شخص جس نے قرآن کریم کا کوئی حصہ بھی حفظ نہیں کیا وہ ویران گھر کی طرح ہے۔