حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 29
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 29 یاد کر لیتے اور دوسروں کو بھی پڑھا دیتے اور یاد کروا کر سن لیا کرتے تھے۔قرآن کریم کا اس انداز میں نزول بھی حفاظت قرآن کریم کے حوالے سے ایک زبر دست حکمت اپنے اندر رکھتا ہے۔بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت میں قرآن کریم کی چار پانچ آیات ہی نازل ہوا کرتی تھیں۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا قرآن کریم پڑھنے کا طریق یہ تھا کہ آپ پانچ آیات صبح اور پانچ آیات شام کے وقت پڑھتے اور فرمایا کرتے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے قرآن کو پانچ پانچ آیات کر کے اُتارا ہے۔بیہقی نے کتاب شعب الایمان میں بطریق ابوخلدہ حضرت عمرؓ سے روایت کی ہے کہ قرآن پانچ پانچ آیات کر کے لکھو کیونکہ حضرت جبریل اسے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پانچ پانچ آیتوں کی مقدار میں نازل کیا کرتے تھے۔“ (الاتقان، حصه اول صفحه 107) پس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پانچ آیات حفظ کر لینا اور دوسروں کو پڑھا دینا یالکھوا دینا اور یاد کروا کے سن لینا مشکل نہ تھا۔چھٹی آیت: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَالِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلاً (الفرقان: 33 ) ترجمہ: اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، وہ کہیں گے کہ اس پر قرآن ایک دفعہ کیوں نہ اُتارا گیا۔اسی طرح ( اُتارا جانا تھا) تا کہ ہم اس کے ذریعہ تیرے دل کو ثبات عطا کریں اور (اسی طرح) ہم نے اسے بہت مستحکم اور سلیس بنایا ہے۔ترجمه بیان فرموده حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمه الله تعالى) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار اور معاندینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اعتراض کا