حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 28 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 28

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 28 آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کے ساتھ ہی قرآن کا نزول شروع ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وفات تک برابر 23 سال یہ سلسلہ جاری رہا۔نزول وحی کی ابتدا چند آیات سے ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مقدار بڑھا دی حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے آخری حصہ میں قرآنی وحی زیادہ مقدار میں اور پے درپے نازل ہونے لگی۔اس میں ایک حکمت تو یہ تھی کہ نئی تعلیم ہونے کی وجہ سے ابتدا میں اس کو یاد کرنا، مجھنا اور اس پر عمل کرنا کچھ مشکل تھا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے لیے جیسے جیسے اس کا سمجھنا آسان ہوتا گیا، ویسے ویسے اس کے نزول کی مقدار اور رفتار میں اللہ تعالیٰ نے اضافہ فرما دیا۔دوسری بڑی حکمت قرآن کی حفاظت بھی تھی۔شروع میں صحابہ کی تعداد کم تھی ، پھر جیسے جیسے ایمان لانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے قرآنی وحی کی مقدار اور رفتار بھی بڑھتی گئی۔گویا اللہ تعالیٰ نے تحریری اور تقریری (یعنی زبانی ) دونوں طرح سے قرآن کریم کی حفاظت کا زبردست انتظام فرمایا اور یہ وعدہ سچ کر دکھایا: یقیناً اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہماری ذمہ داری ہے۔پس نزول قرآن کریم کے ساتھ ہی اس کو ضبط تحریر میں لانے کا کام جاری کرنا اور اس کے حفاظ کا سلسلہ شروع کرنا اس بین حفاظت کا ایک ایسا ثبوت اور اعجاز ہے جو کسی اور کتاب کے ساتھ نہیں دکھائی دیتا۔پانچویں آیت: وَقُرْآناً فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنزِيلاً (بنی اسرائیل: 107) ترجمہ: اور قرآن وہ ہے کہ اسے ہم نے ٹکڑوں میں تقسیم کیا ہے تا کہ تو اسے لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے بڑی قوت اور تدریج کے ساتھ اتارا ہے۔(ترجمه بیان فرموده حضرت خليفة المسيح الرابع رحمه الله تعالى یہ بات ثابت شدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم وقفہ وقفہ سے اور تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا۔عام طور پر ایک وقت میں چند آیات ہی نازل ہوا کرتی تھیں۔آپ آسانی سے انہیں خود بھی