حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 27 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 27

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 27 چوتھی آیت: إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ O فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعُ قُرْآنَهُ 0 (القيامة :19،18) ترجمہ: یقیناً اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہماری ذمہ داری ہے۔پس جب ہم اسے پڑھ چکیں تو تو اس کی قرآت کی پیروی کر۔(ترجمه بیان فرموده حضرت خلیفة المسيح الرابع رحمه الله تعالى اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً ، وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ۔۔۔فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ) (بخاری کتاب بدء الوحي الى رسول الله ﷺ ترجمہ:۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ( لَا تُحَرِّكُ بِہ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِہ) کے متعلق کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول وحی کے وقت شدید تکلیف محسوس کیا کرتے تھے۔اور یادرکھنے کے لیے اپنے ہونٹوں کو تیزی سے حرکت دیتے تھے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تو اس کو جلدی جلدی یاد کر لینے کی غرض سے اپنے ہونٹوں کو تیزی سے حرکت نہ دے۔یقیناً اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہماری ذمہ داری ہے۔نزول قرآن کریم کے وقت کوئی بھی الہامی کتاب اپنی اصلی صورت میں قائم نہ رہی تھی بلکہ وہ تصرفات اور تحریفات کا شکار ہو چکی تھیں۔ایسی صورت میں قرآن کریم کا نازل کیا جانا اور یہ دعوی کرنا کہ اس کی حفاظت کی جائے گی ایک معجزہ ہی ہے۔پس قرآن کریم وہ واحد الہامی کتاب ہے جو بعینہ اسی طرح محفوظ ہے جس طرح نازل ہوئی تھی۔