حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 25 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 25

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 25 صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتارا ہے اور ہم اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یقیناً ہم اس کی خود حفاظت کریں گے۔اللہ اللہ کتنا زور ہے اور کس قد رحتمی وعدہ ہے۔دوسری آیت: (تفسیر کبیر، جلد چهارم صفحه 14 15 زير تفسير الحجرآيت (10) وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرُ۔(القمر 18) ترجمہ: اور ہم نے قرآن کو یاد کرنے کے لئے آسان کر دیا ہے پس کوئی ہے یاد کرنے والا ؟ پس اللہ تعالی ہر اس شخص کا سیدہ کھول دیتا اور یاد کرنے کے لیے آسانی پیدا کر دیتا ہے جو قرآن کریم حفظ کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرتا ہے۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی نور اللہ مرقدة فرماتے ہیں: چونکہ قرآن کریم حفظ کیا جانا تھا اس لیے ضروری تھا کہ یا تو اشعار میں ہوتا یا اشعار سے ملتا جلتا ہوتا۔قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے ایسے انداز میں رکھا کہ جس قدر جلدی یہ حفظ ہو سکتا ہے اور کوئی کتاب نہیں ہو سکتی۔اس کی وجہ تو ازن الفاظ ہی ہے اور پڑھتے وقت ایک قسم کی ربودگی انسان پر طاری ہو جاتی ہے۔“ (انوار العلوم، جلد 11، صفحه (132) | اس موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسی الثنی نور اللہ مرقدہ مزید فرماتے ہیں: عام طور پر یورپین مصنف اپنی نا واقفی کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جبکہ دنیا میں بائبل کا کوئی حافظ نہیں ملتا تو قرآن شریف کا کوئی حافظ کہاں ہوسکتا ہے حالانکہ قرآن کریم کا یہ معجزہ ہے کہ وہ ایسی سریلی زبان میں نازل ہوا ہے کہ اس کا حفظ کرنا نہایت ہی آسان ہے۔میرا بڑا لڑکا ناصر احمد ( حضرت خلیفۃ اسیح الثالث۔ناقل ) جو آکسفورڈ کا بی اے آنرز اور ایم اے ہے۔میں نے اسے دنیاوی تعلیم سے پہلے