حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 173
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات ب ہشتم 173 جماعت احمدیہ اور حفظ قرآن جمال و حسن قرآں نورِ جانِ ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آخری زمانہ میں امت کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو سیح موعود و مہدی معہود بنا کر مبعوث فرمایا جنہوں نے آکر قرآن کریم کی تعلیم کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔آپ علیہ السلام نے اپنی ساری زندگی خدمت قرآن کریم میں گزاری۔بچپن سے ہی آپ علیہ السلام کو قرآن کریم سے محبت تھی۔آپ علیہ السلام سیالکوٹ میں یہ سلسلہ ملازمت قیام کے دوران اکثر اوقات میں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے عبادت کرتے اور قرآن کریم کی تلاوت فرماتے اور اس پر تدبر کرتے رہتے۔آپ علیہ السلام نے قرآنی آیات لکھ کر دیواروں پر لٹکا رکھی تھیں تا کہ آتے جاتے ان پر نظر پڑتی رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت کثرت سے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔خان بہادر مکرم مرزا سلطان احمد صاحب کی روایت ہے کہ آپ علیہ السلام کے پاس ایک قرآن تھا جس پر نشان کرتے رہتے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ شاید آپ نے دس ہزار مرتبہ اس ( قرآن ) کو پڑھا ہو۔“ (حیات احمد مرتبه حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب، جلداول، صفحه (128) حضرت مسیح موعود جب اپنے والد بزرگوار کے حکم کی تعمیل میں بسلسلہ ملازمت سیالکوٹ کچہری میں قیام فرما تھے۔وہاں شمس العلماء جناب مولانا سید میر حسن مرحوم ( جو ڈاکٹر علامہ اقبال کے استاد تھے ) حضور کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ آپ کچہری سے جب تشریف لاتے تھے تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے تھے۔بیٹھ کر ، کھڑے ہو کر ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے اور زار زار رویا کرتے تھے۔ایسی خشوع و خضوع سے تلاوت کرتے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔“ (حیات طیبہ مرتبہ شیخ عبد القادر صاحب، صفحہ 33)