حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 167 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 167

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 167 صحابہ کرام کو کلام الہی سے بہت محبت تھی۔وہ اپنا حفظ اور اپنی تحریر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر کے اسے مستند بنایا کرتے تھے۔پس جن کا دن رات کا کام تلاوت و تعلیم قرآن ہو وہ کس طرح بھول سکتا ہے۔ابتدائی مؤمنین میں سے ایسے لوگ بھی حفظ کرنے لگے جن کی علمی حالت ایسی نہ تھی کہ قرآنی مضامین کی گہرائی میں جا کر ان کو سمجھ پاتے۔باوجود معنے نہ جاننے کے مسلمانوں کا قرآن کریم کو یاد کرتے چلے جانا الہی کلام سے محبت کی دلیل ہے۔چنانچہ ایک روایت ہے: عن عبدالله بن عمرو قال جاء رجل الى رسول الله الله فقال يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَلَا أَجِدُ قَلْبِي يَعْقِلُ عَلَيْهِ۔(مسند أحمد بن حنبل، مسند عبد الله بن عمرو، جزء2، صفحه 172) ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں قرآن کریم تو پڑھتا ہوں مگر مجھے اس کی سمجھ نہیں آ رہی ہوتی۔حضرت خلیفتہ اسی الثانی مصلح موعود نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے قرآن کریم کے پیرو قرآن کریم کو بے معنی ہی پڑھتے رہتے ہیں اس کے معنے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ بھی اس آیت انا نحن نزلنا الذكر و انا له لحفظون (الحجر: 10) میں مذکورہ وعدہ کی تصدیق ہے۔مسلمانوں کے دل میں اللہ تعالیٰ نے کس طرح قرآن کریم کی محبت ڈال دی ہے کہ معنی آئیں یا نہ آئیں وہ اسے پڑھتے چلے جاتے ہیں۔یقیناً ہر مسلمان کا فرض ہے کہ قرآن کریم کو با معنی پڑھے اور اس طرف سے تغافل بڑی تباہی کا موجب ہوا ہے۔“ (تفسیر کبیر، جلد چهارم صفحه 18 ، زیر تفسير سورة الحجرآيت (10) | آپ مزید فرماتے ہیں: ایک واقعہ کو کس طرح جھٹلایا جا سکتا ہے؟ جب واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم آپ کو یاد