حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 121 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 121

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 121 آخری آیت فبای حدیث بعده یومنون پس اس (قرآن) کے بعد وہ کس کلام پر ایمان لائیں گے تک پہنچے تو اس کے بعد کہے: امنا بالله یعنی ہم اللہ پر ایمان لائے۔ا عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى۔(ابو داود، كتاب الصلاة، باب الدعاء في الصلاة) ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (سورۃ الاعلیٰ کی تلاوت کرتے ہوئے ) جب سبح اسم ربک الاعلی“ کہ اپنے رب بزرگ و بالا رب کی پاکیزگی بیان کرو“ پڑھتے تو جواب میں کہتے : سبحان ربی الاعلی یعنی پاک ہے میرا رب جو بہت بلندشان والا ہے ا سورۃ الغاشیہ کے آخر میں آیت ثم ان علينا حسابھم۔یعنی پھر ان سے حساب لینا بھی یقیناً ہمارا ہی کام ہے۔پڑھی جائے تو یہ دعا کی جائے۔اللهم حاسبني حساباً يسيرا۔یعنی اے میرے اللہ ! مجھ سے بہت آسان حساب لینا۔لله عَنْ عَائِشَةَ رضى اللهُ عنها قَالَتْ مَا صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلّم صَلَاةً بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ) إِلَّا يَقُولُ فِيهَا سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرُ لِي (بخاری، کتاب التفسير سورة اذا جاء نصر الله روایت نمبر 4967) | ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سورۃ النصر نازل ہونے کے بعد حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی نماز پڑھتے تو اس سورۃ میں آیت فسبح بحمد ربک واستغفره ط انه كان توابان پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے بخشش مانگو۔یقینا وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے، کے جواب میں یہ دعا پڑھتے۔