حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 119 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 119

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 119 علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کہ ہر شے کے لئے ایک زینت ہوتی ہے اور قرآن کریم کی زینت سورۃ الرحمن ہے۔سورة الرحمن کو عروس القرآن یعنی قرآن کی دلہن کہا گیا ہے۔اس سورۃ میں آیت فباي الاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان کا موقع اور محل کے عین مطابق بار بار آنا حسن کلام اور حسن صوت میں ایک عجیب اور مستور کن اثر پیدا کر دیتا ہے اور پھر قدم قدم پر خدائی انعامات اور الہی احسانات کا شکر ادا کرنے کی طرف مؤثر رنگ میں توجہ دلاتا ہے۔لہذا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں بطور شکر یہ کلمات پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔چنانچہ روایت ہے: عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عليه وسلم عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةَ الرَّحْمَنِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا فَسَكَتُوا فَقَالَ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى الْجِنِّ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَكَانُوا أَحْسَنَ مَرْدُودًا مِنْكُمْ كُنْتُ كُلَّمَا أَتَيْتُ عَلَى قَوْلِهِ فَبِأَيِّ الآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ) قَالُوا لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ۔(ترمذی، کتاب تفسیر القرآن سورة الرحمن ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے پاس تشریف لائے ، اور ان کے سامنے سورۃ الرحمان کی شروع سے آخر تک تلاوت کی۔صحابہ خاموش رہے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ سورت جنوں کے سامنے پڑھی تھی ، انہوں نے تم سے بہتر رد عمل ظاہر کیا۔جب بھی میں یہ آیت پڑھتا۔فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ کہ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے تو وہ کہتے : لا بِشَیءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمدُ یعنی اے ہمارے رب ہم تیری نعمتوں میں سے کی چیز کو بھی نہیں جھٹلاتے اور تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔سورة الملک پارہ نمبر 29 کے آخر میں آتا ہے۔فَمَنْ يَّأْتِيْكُمْ بِمَاءٍ مَّعِينٍ کہ اگر تمہارا