حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 106
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 106 پڑھے جاتے ہیں۔یاد رکھو! کچھ لوگ قرآن کو اس طرح پڑھتے ہیں کہ وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔قرآن تو اس انسان کو فائدہ دیتا ہے جب وہ اس کے دل میں اُتر کر راسخ ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھی یہ بات پیش ہوئی کہ ایک رکعت میں بعض لوگ قرآن ختم کرنا کمالات میں تصور کرتے ہیں اور ایسے حافظوں اور قاریوں کو اس امر کا بڑا فخر ہوتا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا: ” یہ گناہ ہے اور ان لوگوں کی لاف زنی ہے جیسے دنیا کے پیشہ والے اپنے پیشہ پر فخر کرتے ہیں ویسے ہی یہ بھی کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریق کو اختیار نہ کیا حالانکہ اگر آپ چاہتے تو کر سکتے تھے مگر آپ نے چھوٹی چھوٹی سورتوں پر اکتفا کیا۔“ (ملفوظات، جلد سوم صفحه 333) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید جلد جلد پڑھنے کو نا پسند فرمایا ہے آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریق کو اختیار نہ کیا۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرمایا کرتے تھے۔حضرت یعلی بن مملک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی تلاوت کا کیا طریق تھا؟ تو انہوں نے کہ بتایا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت قراءت مفسرہ ہوتی تھی یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت کیا کرتے تھے تو سننے والے کو ایک ایک حرف کی الگ الگ سمجھ آ رہی ہوتی تھی۔(ترمذی، ابواب فضائل القرآن باب ما جاء كيف قراءة النبيل الله) حضرت خلیفہ امسح الخامس اید اللہ بنصرہ العز یز س سلسلہ میں فرماتے ہیں : ”جو تلاوت کی ہے اس کا سمجھنا بھی ضروری ہے تبھی تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کوفرمایا تھا کہ میں نے ضمنا پہلے بھی ذکر کیا تھا لیکن