حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 98
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 98 ضمن بھی اُمتِ مسلمہ نے بہت سے نئے علوم کی بنیاد ڈالی۔کسی اور زبان میں دیکھ کر پڑھنے کے بارہ میں ایسی تحقیق اور تفصیل سے اصول وضع نہیں کیے گئے جیسا کہ قرآن کریم کی خدمت کی خاطر امت مسلمہ میں عربی زبان میں وضع کیے گئے۔مسلمانوں میں کس کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے اور تلاوت کرنے کے آداب اور علوم کو کس درجہ اہمیت حاصل ہے، اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ترتیل اور تجوید کا فن جو کہ تلاوت قرآن کے آداب و قواعد اور انداز کے بارہ میں با قاعدہ ایک سائنس کی شکل اختیار کر چکا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں میں بہت مقبول اور اس کا سیکھنا باعث عزت و تکریم سمجھا جاتا ہے۔آج ساری دنیا میں بڑی مساجد میں نماز تراویح میں ان قراء حضرات کا اہتمام کیا جاتا ہے جوفن تجوید کے اصول سے واقف ہوں اور تلاوت کے آداب جانتے ہوں۔ساری دنیا میں حسن قراءت کے مقابلہ جات اور محافل کا انعقاد ہوتا ہے۔ہمارے اجلاسات اور تقریبات کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہی ہوتا ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہی قرآن کریم دنیا کی تمام کتب میں سب سے زیادہ زبانی اور دیکھ کر پڑھی جانے والی کتاب ہے۔آج تک دنیا کی کسی کتاب کے بارے میں ایسے قوانین اور سائنس کی بنیاد بھی نہیں ڈالی گئی جیسا کہ قرآن کریم کے صرف پڑھنے اور تلاوت کرنے کے لئے صدیوں سے رائج ہیں۔وانا له لحافظون کے مصداق قرآن کریم کی تلاوت کا حق ادا کرنے میں بھی حفاظت کا ایک پہلو موجود ہے جس کے لیے فن تجوید و قراءت ایجاد کیا گیا تا کہ مختلف اقوام کے اختلاط سے قرآن کریم کا تلفظ متاثر نہ ہو۔گو اسلام نے موسیقی کو حرام قرار دیا لیکن عمدہ، خوب صورت اور خوش الحانی کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے کے ذریعہ ذوق نغمہ کی تسکین بھی کی اور روح کی غذا کا سامان بھی بہم پہنچایا۔حفظ قرآن کریم، تجوید قرآن اور حسن قراءت سے کلام اللہ کی بلندی اور دوسری آسمانی کتب اور صحائف بالمقابل قرآن پاک کی امتیازی خصوصیت ظاہر اور نمایاں ہوتی ہے۔گو کہ قرآن کریم کو تدبر اور غور فکر سے سمجھ سمجھ کر پڑھنا چاہئے لیکن حفاظت قرآن کریم کے لیے بغیر معنی سمجھے صرف الفاظ یاد کرنے والے حفاظ کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔