حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 91
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 91 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلَّم لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمُ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ (بخاری، کتاب التوحيد، باب قول الله تعالى وأسروا قولكم او اجهروا به روایت نمبر 7527) | ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خوش الحانی سے قرآن کریم پڑھنے کی کوشش نہیں کرتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن قرآت سے قرآن پڑھنا روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خود ٹھہر ٹھہر کر خوبصورت انداز میں تلاوت کیا کرتے تھے۔حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ يَمُدُّ مَدًّا۔(بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب مد القرآءة، روايت نمبر 5045) | ترجمہ: حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک سے پوچھا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی تلاوت کس طرح کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ مد کولمبا کر کے ( ٹھہر ٹھہر کر ) تلاوت کیا کرتے تھے۔عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُقَطِّعُ قِرَاءتَهُ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) ثُمَّ يَقِفُ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) ثُمَّ يَقِفُ وَكَانَ يَقْرَؤُهَا (مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ)۔(ترمذی، ابواب القراءات، باب في فاتحة الكتاب) ترجمہ : حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کیا کرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم الحمد لله