حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 65
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 65 قرآن کریم کے حقوق قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا پیارا اور محبوب کلام ہے۔اللہ تعالیٰ کو اپنے کلام کے ساتھ خاص محبت ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ محبوب اور خاص کلام اپنے سب سے پیارے فرشتے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ اپنے محبوب اور خاص بندے حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا۔جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب اور محبت ہر ایک امتی پر واجب قرار دیا اسی طرح قرآن کریم کا ادب اور احترام ہر ایک مسلمان کا فرض قرار دیا۔جہاں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حافظ قرآن کے بہت سے فضائل اور اس کی اہمیت اور انعامات بیان فرمائے ہیں اسی طرح کچھ ایسے فرائض ہیں جو حافظ قرآن پر عائد ہوتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظ کو کی گئی بعض نصائح ذیل میں درج ہیں۔حفاظ کے لیے اہم اور فکر انگیز نصائح: قرآن کریم کے حافظ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم کی خاطر اپنے بعض جائز حقوق کو بھی ترک کرنا پڑے تو کرے اور قرآن کریم کی اہمیت کے پیش نظر سب پر اس کلام کو فوقیت دے اور ہر ایک رشتہ سے اس کو اہم جانے۔فضول اور لغو مجالس کا حصہ نہ بنے اور بلا وجہ دنیا داروں کے لیے قہقہے نہ لگائے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری زیادہ کرے اور سنجیدگی اختیار کرے اور باوقار زندگی گزارے۔محض رضائے باری تعالیٰ کے لیے سنوار سنوار کر قرآن کریم کی تلاوت کرے نہ کہ ریا کاری کے لیے اور نہ اس لیے کہ لوگ اس کی آواز کی تعریف کریں۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی نصیحت فرمائی کہ حافظ قرآن کو چاہئے کہ راتوں کو طویل قیام کرے اور نوافل پڑھے اور قرآن کریم کی تلاوت کثرت کے ساتھ کرے اور قرآن کریم کے حکم کے مطابق کہ فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا (التوبة (82) کہ ان کو چاہئے کہ کم ہنسا کریں اور رویا زیادہ کریں۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظ کو یوں نصیحت فرمائی: يَا حَامِلَ الْقُرْآنِ تَزَيَّنْ بِالْقُرْآنِ يُزَيِّنُكَ اللَّهُ وَلَا تَزَيَّنْ بِهِ لِلنَّاسِ فَيُشِيْنَكَ