حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 63 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 63

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 63 فرمایا کہ تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟ اس نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورت، نیز سورۃ البقرۃ۔فرمایا: اچھا تمہیں سورہ بقرہ بھی حفظ ہے؟ صحابی نے عرض کیا : جی ہاں۔فرمایا تو جاؤ تم ان کے امیر ہو۔لشکر کے بڑے لوگوں میں سے ایک نے عرض کیا۔اے اللہ کے رسول ! واللہ ! میں نے محض اس ڈر سے سورۃ البقرۃ یاد نہیں کی کہ شاید میں نماز تہجد میں اس کی تلاوت نہ کر سکوں۔فرمایا: قرآن سیکھو، پڑھو اور پڑھاؤ کیونکہ جس نے قرآن سیکھ کر پڑھا نیز اس کے ساتھ رات کو قیام کیا ، اس کی مثال کستوری سے بھری ہوئی تھیلی کی طرح ہے جس کی خوشبو ہر جگہ پھیل رہی ہو اور جو قرآن کریم سیکھ کر اس حالت میں سویا رہا کہ قرآن اس کے سینے میں ہے اس کی مثال کستوری کی اس تھیلی کی طرح ہے جس کا منہ ڈوری سے بندھا ہوا ہو۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں: حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوسورۃ البقرۃ کے یاد کر نے پر ایک نو جوان کو شکر کا امیر بنا دیا۔اس میں کئی حکمتیں تھیں۔آپ نے اس طرح دوسرے لوگوں کے دلوں میں زیادہ سے زیادہ قرآن یاد کرنے اور یادرکھنے کی خواہش پیدا کر دی۔“ (تفسير كبير، جلد اول، صفحه 51) وفات کے بعد حافظ قرآن کی پہلے تدفین کر کے ان کی عزت قائم کی گئی: حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حافظ قرآن اور قرآن کریم کا زیادہ علم رکھنے والے کو دوسرے اصحاب پر فضیلت دیتے تھے۔چنانچہ روایات میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم امامت اور قیادت کی سپر د کے وقت یہ خاص خیال رکھتے تھے کہ قرآن کریم کا علم کس کے پاس زیادہ ہے؟ اسی طرح جب جنگ اُحد میں شہدا کی تدفین کا مرحلہ آیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: