حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 34
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 34 حافظ قرآن کا بلند درجہ : حافظ قرآن کو یہ بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائی ہے کہ دنیوی زندگی کے بعد ورلی زندگی میں بھی قرآن کریم کی تلاوت حافظ قرآن اور کثرت سے تلاوت قرآن کریم کرنے والے کو فائدہ دے گی۔چنانچہ جس قدر وہ تلاوت کرے گا اسی قدر اس کا مقام بلند ہوتا چلا جائے گا: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِندَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا (سنن ابی داؤد، کتاب الوتر، باب استحباب الترتيل في القراءة) ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن کریم پڑھتا جا اور درجات میں ترقی کرتا جا اور عمدگی سے پڑھ جیسے دنیا میں عمدگی سے پڑھتا تھا۔تیری منزل وہ ہے جہاں تو آخری آیت پڑھے گا (جس آیت پر تو قراءت کو ختم کرے گا)۔سنن ابن ماجہ میں الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہ روایت حضرت ابوسعید خدری سے یوں ہے: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ اقْرَأْ وَاصْعَدْ فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً حَتَّى يَقْرَأَ آخِرَ شَيْءٍ مَعَهُ (سنن ابن ماجه۔كتاب الادب باب ثواب (القرآن) ترجمہ: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حافظ قرآن جنت میں داخل ہو گا تو اس سے کہا جائے گا کہ تم قرآن کریم کی تلاوت کرتے جاؤ اور بلندی درجات حاصل کرتے جاؤ۔پس وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتا جائے گا اور درجات میں بلندی کی منازل طے کرتا جائے گا حتی کہ آخری آیت کی تلاوت تک جو اسے یاد ہوگی وہ بلندی درجات حاصل کرتا چلا جائے گا۔