حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 26
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 26 قرآن کریم کے حفظ پر لگایا اور وہ سارے قرآن کا حافظ ہے۔“ مزید فرماتے ہیں: (دیباچه تفسیر القرآن، صفحه (277) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو اپنے خاص تصرف سے ایسے الفاظ اور ایسی ترکیب سے نازل فرمایا ہے کہ وہ سہولت سے حفظ ہو جاتا ہے۔“ تیسری آیت: (تفسير كبير، جلد چهارم صفحه : 18) | بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (العنكبوت: 50) ترجمہ: بلکہ یہ وہ کھلی کھلی آیات ہیں جو اُن کے سینوں میں ( درج) ہیں جن کو علم دیا گیا ہے۔(ترجمه از قرآن کریم بیان فرموده حضرت خليفة المسيح الرابع رحمه الله تعالى) اس آیت میں حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے دیگر ایسے افراد مراد ہیں جو قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور اسے حفظ کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قرآن کریم بحیثیت ذکر ہونے کے قیامت تک محفوظ رہے گا اور اس کے حقیقی ذاکر ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے۔اور اس پر ایک اور آیت بھی بین قرینہ ہے اور وہ یہ ہے۔بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ یعنی قرآن کریم آیات بینات ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔پس ظاہر ہے کہ اس آیت کے یعنی معنی ہیں کہ مومنوں کو قرآن کریم کا علم اور نیز اس پر عمل عطا کیا گیا ہے اور جب کہ قرآن کریم کی جگہ مومنوں کے سینے ٹھہرے تو یہ آیت اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ بجز اس کے اور کیا معنی رکھتی ہے کہ قرآن سینوں سے مونہیں کیا جائے گا۔“ (شهادت القرآن - روحانی خزائن جلد 6، صفحه 350 |