حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 24
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 24 حافظوں کے ذریعے سے اس کے الفاظ اور ترتیب کو محفوظ رکھا اور ہر ایک صدی میں لاکھوں ایسے انسان پیدا کیے جو اس پاک کلام کو اپنے سینوں میں حفظ رکھتے ہیں۔دوسرے ایسے آئمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کر کے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔تیسرے متکلمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق دے کر خدا کی پاک کلام کو کو نہ اندیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔چوتھے روحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہر ایک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے۔“ پھر آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ايام الصلح - روحانی خزائن جلد 14، صفحه 288) قرآن شریف کی حفاظت کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ توریت یا کسی اور کتاب کے لیے نہیں۔۔۔" (الحكم 17 نومبر 1905ء) حضرت خلیفہ المسیح الثاني نور اللہ مرقدہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: خلیة یہ ایک نہایت ہی زبر دست آیت ہے اور ایسی عجیب ہے کہ اکیلی ہی قرآن مجید کی صداقت کا بین ثبوت ہے۔اس میں کتنی تاکیدیں کی گئی ہیں۔پہلے ان لایا گیا ہے۔پھر ”نا“ کی تاکید نحن سے کی گئی ہے اور پھر آگے چل کر ایک اور ” ان “اور ”لام لایا گیا ہے۔گویا تا کید پر تاکید کی گئی ہے۔کفار نے انک لـمـجـنـون کے جملہ میں دوہری تاکید سے کام لے کر تمسخر کیا تھا۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ تاکید کے چار ذرائع استعمال کرتا ہے اور فرماتا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ( الحجر (10) سنو! ہم نے ہاں یقیناً ہم نے ہی اس شرف وعزت والے کلام کو آنحضرت