حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 195 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 195

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 195 تو یہ کلاس بیت حسن اقبال ( جامعہ احمدیہ میں منتقل ہوگئی۔بعد ازاں حافظ کلاس کو طبیہ کالج کی عمارت واقع دار النصر غربی میں منتقل کر دیا گیا۔مؤرخہ 4 فروری 1976ء کو کرم پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ نے حافظ کلاس کا نام تبدیل کر کے مدرستہ الحفظ رکھا۔مکرم قاری محمد عاشق صاحب ہی مدرستہ الحفظ کے نگران اور انچارج رہے۔طلباء کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تعداد بھی بڑھتی رہی۔بعض اساتذہ کچھ عرصہ کے لئے پڑھاتے رہے۔مدرستہ الحفظ میں اب تک مختلف اوقات میں خدمات بجالانے والے اساتذہ کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں: مکرم حافظ قاری محمد عاشق صاحب، مکرم حافظ امان اللہ صاحب، مکرم قاری عاشق حسین صاحب، مکرم حافظ اللہ یار صاحب، مکرم حافظ عبدالحمید صاحب، مکرم حافظ محمد ابراہیم صاحب، مکرم حافظ عطاءالحق صاحب، مکرم حافظ محمد یوسف صاحب، مکرم حافظ منور احسان صاحب، مکرم حافظ محمد اقبال وڑائچ صاحب، مکرم حافظ احمد انور قریشی صاحب، اور خاکسار حافظ قاری مسرور احمد مدرستہ الحفظ کی نئی عمارت کی تعمیر کے لئے پرانی عمارت کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا تو مدرستہ الحفظ کو جون 2000 ء تک تقریبا ایک سال جلسہ سالانہ کے لئے بنائی گئی پیرکس (دار النصر غربی) میں منتقل کر دیا گیا۔جون 2000ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے مدرستہ الحفظ کا مکمل انتظام نظارت تعلیم صدر انجمن احمد یہ ربوہ کے سپرد کیا گیا۔نئے انتظام کے تحت مدرسہ کو نصرت جہاں اکیڈمی کے ساتھ واقع عمارت راولپنڈی گیسٹ ہاؤس میں منتقل کیا گیا، جہاں پر یہ ایک مستقل علیحدہ ادارے کی صورت میں قائم ہوا۔مدرستہ الحفظ کے موجودہ پر سپیل مکرم حافظ مبارک احمد ثانی صاحب ہیں۔اساتذہ کرام کی فہرست درج ذیل ہے: مکرم حافظ عبدالکریم صاحب (وائس پرنسپل)، مکرم حافظ قاری محمد عاشق صاحب،