حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 135
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات حفظ شروع کرانے کا طریق کار : 135 استاد کو چاہئے کہ طالب علم کی صلاحیت کے مطابق اتنا سبق دے جتنا اس پر بوجھ نہ بنے اور وہ آسانی کے ساتھ یاد کر کے سنا سکے۔طالب علم کو روزانہ سبق بھی دیا جائے اور پچھلے کم از کم سات دنوں کے اسباق بھی روزانہ سنے جائیں تاکہ ساتھ کے ساتھ دہرائی ہوتی رہے۔ایک سپارہ سبقا ختم ہونے پر پورا پارہ بغیر غلطی کے بطور ”سیقی پارہ سنا جائے۔جب طالب علم سبق یاد کر کے سنائے تو معمولی غلطی کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے اور اس وقت تک طالب علم کو یاد کر وایا جائے جب تک مکمل تسلی نہ ہو جائے کہ اس کو حفظ پختہ ہو چکا ہے۔اگر ذراسی بھی غلطی ہوگی تو طالب علم کے ذہن میں ہمیشہ کے لیے وہ غلطی پختہ ہو جائے گی۔غلطی دو قسم کی ہوتی ہیں : 2۔بھول جانے کی غلطی 1 - تلفظ کی غلطی غلطیوں سے بچنے کا آسان طریق یہ ہے کہ جہاں بھی تلفظ کی غلطی ہو یا بھولنے کی ، اس جگہ پر پنسل سے نشان لگا دیا جائے اور جب تک غلطی ٹھیک نہ ہو جائے اس کی اصلاح جاری رکھی جائے۔سبق پر روزانہ تاریخ ڈالنے سے طالب علم کی ذہنی صلاحیتوں کا جائزہ لینے میں بہت مددملتی ہے۔روزانہ کا سبق ، سات دنوں کے اسباق ،سبقی پارہ اور منزل با قاعدگی سے سنی جائے۔جب تک تسلی نہ ہو کہ ہفتہ بھر کے اسباق اور منزل پختہ ہو چکی ہے تب تک نیا سبق نہ دیا جائے بلکہ پہلا ہی پختہ کرنے کی کوشش کی جائے۔استاد کوشش کرے کہ ایک دن کا بھی ناغہ نہ ہو۔طالب علم کے لیے استاد کا نمونہ اعلیٰ اور عمدہ ہونا چاہئے۔اگر استاد خود اچھا قاری و حافظ ہوگا تو طالب علم پر بہت اچھا اثر پڑے گا۔استاد کی بھر پور کوشش ہونی چاہئے کہ طالب علم حروف کی ادائیگی اچھے طریق پر استاد کی طرح کرے۔استاد کو چاہئے کہ صدر کے انداز میں روزانہ خود سبق پڑھائے۔مخارج الحروف اور حروف کی صفات مثلاً اخفاء، اظهار ، ادغام، غنه، مد، قصر ،تفخیم اور ترقیق کا خیال رکھ کر طالب علم کو خود دو تین مرتبہ کہلوائے۔بڑی مد اور حروف مدہ کا خاص خیال رکھا جائے۔اسی