حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 120
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 120 پانی زمین کی گہرائی میں غائب ہو جائے تو کون ہے جو تمہارے لئے چشموں کا پانی لائے گا؟ اس کے جواب میں کہا جائے۔اللَّهُ يَأْتِينَا بِهِ وَ هُوَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ترجمہ: اللہ ہی اس کو ہمارے پاس لائے گا اور وہ سب جہانوں کا پالنے والا ہے۔سورۃ شمس آیت نمبر 9 میں فرمایا: فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا ترجمه: کہ اس (الله) نے نفس پر اس کی بدکاری ( کی راہوں کو بھی ) اور اس کے تقویٰ ( کی راستوں ) کو بھی اچھی طرح کھول دیا ہے۔اس کے جواب میں پڑھا جائے۔اَللَّهُمَّ آتِ نَفْسِى تَقُونِهَا وَ زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَ مَوْلها۔ترجمہ: اے اللہ میرے نفس کو تقوی عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا ساتھی اور مالک ہے۔لله عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عليه وسلم مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ) فَانْتَهَى إِلَى آخِرِهَا (أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ) فَلْيَقُلْ بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَالِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ وَمَنْ قَرَأَ (لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ) فَانْتَهَى إِلَى أَلَيْسَ ذَالِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى فَلْيَقُلْ بَلَى وَمَنْ قَرَأَ (وَالْمُرْسَلَاتِ) فَبَلَغَ ) فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ) فَلْيَقُلُ آمَنَّا بِاللَّهِ (ابو داود، كتاب الصلاة، باب مقدار الركوع والسجود) ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم سے کوئی سورۃ التین آخر تک پڑھے تو آیت الـــس الـلـــه باحکم الحاکمین “ یعنی کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حا کم نہیں کے بعد کہے: بلى وأَنَا عَلَى ذَالِكَ مِنَ الشَّاهِدِين - بے شک اللہ ہی سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے اور میں اس پر گواہ ہوں۔سورۃ القیامۃ کی آخری آیت: الیس ذالک بقدرِ عـلـى ان يحيى الموتی۔کیا خدا اس بات پر قادر نہیں مردوں کو پھر زندہ کر دے؟ پڑھی جائے تو بلی کہنا چاہئے کہ ہاں یقینا اللہ اس پر قادر ہے۔سورۃ المرسلت کی