ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 7

7 ہدایات زریں رہے ہیں۔دوسرے وہ جو اس وقت تو کام نہیں کر رہے۔لیکن دو تین سال کے بعد کام کرنے والے ہیں اور تیسرے وہ جنہوں نے کام لینا ہے۔مخاطبین کی پہلی قسم پھر اس وقت میرے سامنے تین قسم کے لوگ ہیں ایک تو وہ جن کا حلقہ نظر بہت ہی محدود ہے جیسے طالب علم جو آئندہ کام کرنے والے ہیں ان کا حلقہ نظر بہت ہی محدود ہے۔اور ان کی مثال ایسی ہے جیسی کہ کنویں کے مینڈک کی ایک مثل بیان کی جاتی ہے کہ کوئی کنویں کا مینڈک تھا وہ سمندر کے مینڈک سے ملا اور پوچھا بتاؤ سمندر کتنا بڑا ہے۔سمندر کے مینڈک نے کہا بہت بڑا ہوتا ہے۔اس نے کہا کیا کنویں جتنا۔کہا نہیں بہت بڑا ہوتا ہے۔اس پر کنویں کے مینڈک نے ایک چھلانگ لگائی اور کہا کیا اتنا بڑا ہوتا ہے۔اس نے کہا نہیں۔یہ کیا ہے وہ بہت بڑا ہوتا ہے۔اس پر کنویں کے مینڈک نے دو تین اکٹھی چھلانگیں لگا کر پوچھا اتنا بڑا۔اس نے کہا یہ کیا بے ہودہ اندازہ لگاتے ہو سمندر تو بہت بڑا ہوتا ہے کنویں کے مینڈک نے کہا تم بہت جھوٹے ہو اس سے بڑا کیا ہوسکتا ہے میں تم جیسے جھوٹے کے ساتھ بات نہیں کرنا چاہتا۔تو طالب علموں کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے۔ان کو اگر ایک بات بھی مل جاتی ہے اور استاد سے کوئی ایک دلیل بھی سن لیتے ہیں تو کہتے ہیں اسی دلیل کو لے کر کیوں لوگ نہیں نکل جاتے اور ساری دُنیا کو کیوں نہیں منوا لیتے۔اس کی کیا تردید ہوسکتی ہے اور کون ہے جو اس کو توڑ سکتا ہے۔حالانکہ مختلف طبائع مختلف دلائل کی محتاج ہوتی ہیں۔اور مختلف لیاقتوں کے دشمنوں کے مقابلہ میں مختلف ذرائع کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔اگر ایک دلیل ایک قسم کے پانچ دس آدمیوں کے لئے مفید ہوتی ہے تو سینکڑوں