ہدایاتِ زرّیں — Page 14
14 ہدایات زریں جب تک جس قوم میں جو کمزوریاں اور نقائص ہوں وہ اسے بتائے نہ جائیں اس وقت تک کوئی مبلغ نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ بلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ کے ماتحت ضروری ہے کہ یہودیوں میں جو نقص ہوں وہ ان کو بتائے جائیں۔عیسائیوں میں جو نقص ہوں وہ ان کو سنائے جائیں۔غیر احمدیوں میں جو نقص ہوں ان سے انہیں آگاہ کیا جائے اور اپنی جماعت میں جو کمزوریاں ہوں وہ اپنے لوگوں کو بتائی جائیں۔ہاں جو مبلغ بنانے اور تیار کرنے والے ہوں ان کا کام ہے کہ ایک ایک شخص کو یہ سب باتیں بتا ئیں۔لیکن جو شخص تبلیغ کرتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ جس قوم میں جائے اس کی کمزوریاں اور نقائص اس تک پہنچائے۔اگر اس کے سامنے کسی دوسری قوم کی کمزوریوں کا ذکر کرے گا تو یہ بلغ - مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ کے ماتحت نہ ہوگا۔پس قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو ساری صداقتیں پہنچا دینی اور جو جس کا مستحق ہے اس کے پاس وہی پہنچانا مبلغ کا کام ہے۔اگر کوئی شخص کسی کو پوری پوری صداقت نہیں پہنچا تا تو وہ مبلغ نہیں ہوسکتا اور اگر کسی کے کام آنے والی صداقت کسی اور کو پہنچادیتا ہے تو بھی مبلغ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ یہ پہنچا نا نہیں ہوتا بلکہ پھینکنا ہوتا ہے۔مثلاً اگر چٹھی رساں کسی کا خط کسی کو دے آئے تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ خط پہنچا آیا بلکہ یہی کہیں گے کہ پھینک آیا ہے۔غرض مبلغ لفظ نے بتادیا کہ جس کے کام آنے والی صداقت ہو اسی کو پہنچانا ضروری ہے اور مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ نے بتا دیا کہ ساری کی ساری پہنچانی چاہئے نہ کہ اس کا کچھ حصہ پہنچا دیا جائے۔اس چھوٹے سے فقرے میں مبلغ کا سارا کام بتادیا گیا ہے۔