ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 9

9 ہدایات زریں کر سکتے ہیں کہ عوام کو درست ہی معلوم ہو یا ایک ایک بات میں اعتراض کے کئی ایسے پہلو نکالے جاسکتے ہیں جن کی طرف پہلے ان کا خیال بھی نہیں گیا ہوتا۔دوسری قسم دوسرا گروہ وہ ہے جس کی نظر تو محدود نہیں ہے وہ دنیا میں پھرے ہیں لوگوں سے ملے ہیں مخالفین کے اعتراضات سنے کا انہیں موقع ملا ہے مگر ان کی نظر کی وسعت عرض کے لحاظ سے ہے عمق کے لحاظ سے نہیں۔میں نے عورتوں کو کئی دفعہ بڑی حیرت سے یہ کہتے سنا ہے کہ لوگ خدا کا انکار کس طرح کر سکتے ہیں بھلا خدا کی ہستی کا بھی انکار کیا جاسکتا ہے؟ مگر ان کو دنیا کاعلم نہیں ہوتا اور وہ نہیں جانتیں کہ دُنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو حیرت سے پوچھتے ہیں کہ دنیا خدا کو مانتی کیوں ہے؟ بھلا اس کے ماننے کے لئے بھی کوئی دلیل ہو سکتی ہے۔ان عورتوں نے مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہو کر یہ سمجھا کہ خدا کا انکار کوئی کرہی نہیں سکتا۔لیکن اگر ان کی نظر وسیع ہوتی اور وہ دنیا کے لوگوں کی حالت سے آگاہ ہوتیں تو پھر وہ حیرت کے ساتھ یہ نہ کہتیں۔تو ہمارے مبلغوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کو عرض کے لحاظ سے تو وسعت حاصل ہے مگر ان کے اندر عمق نہیں ہے وہ یہ جانتے ہیں کہ لوگوں میں مذہبی مسائل میں کتنا اختلاف ہے۔مگر یہ نہیں جانتے کہ کیوں ہے؟ کیوں پیدا ہوا ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ ایک شخص کنویں میں جھانک کر دیکھتا ہے کہ اس میں پانی ہے اور اتنی جگہ میں ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ کتنی گہری زمین سے جا کر پانی نکلا ہے اور کس طرح نکلا ہے۔تو یہ لوگ دنیا کے اعتراضات سے واقف ہیں، دنیا کے خیالات سننے کا