ہدایاتِ زرّیں — Page 52
52 ہدایات زریں بھی بعض دفعہ چپ بیٹھے رہتے تھے۔ایسے موقع کے لئے بعض لوگوں نے مثلاً میاں معراج الدین صاحب اور خلیفہ رجب الدین صاحب نے یہ عمدہ طریق نکالا تھا کہ کوئی سوال پیش کر دیتے تھے کہ حضور مخالفین یہ اعتراض کرتے ہیں اس پر تقریر شروع ہو جاتی۔تو بعض لوگوں کو باتیں کرنے کی خوب عادت ہوتی ہے۔اور بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں چپ کرانا پڑتا ہے۔مبلغوں کے لئے باتیں کرنے کا ڈھب سیکھنا نہایت ضروری ہے۔میر صاحب ہمارے نانا جان کو خدا کے فضل سے یہ بات خوب آتی ہے۔میں نے ان کے ساتھ سفر میں رہ کر دیکھا کہ خواہ کوئی کسی قسم کی بھی باتیں کر رہا ہو، وہ اس سے تبلیغ کا پہلو نکال ہی لیتے ہیں۔بیسویں ہدایت بیسویں بات یہ ہے کہ مبلغ بیہودہ بحثوں میں نہ پڑے بلکہ اپنے کام سے کام رکھے۔مثلاً ریل میں سوار ہو تو یہ نہیں کہ ترک موالات پر بحث شروع کر دے۔میں نے اس کے متعلق کتاب لکھی ہے مگر اس لئے لکھی ہے کہ میرے لئے جماعت کی سیاسی حالت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے اور سیاسی طور پر اپنی جماعت کی حفاظت کرنا بھی میرا فرض ہے۔اگر میں صرف مبلغ ہوتا تو بھی اس کے متعلق کچھ نہ لکھتا کیونکہ مبلغ کو ایسی باتوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔اسے ہر وقت اپنے کام کا ہی فکر رکھنا چاہئے۔اور اگر کہیں ایسی باتیں ہو رہی ہوں جو اس کے دائرہ عمل میں داخل نہیں ہیں تو وہ واعظانہ رنگ اختیار کرے اور کہے کہ اتفاق و اتحاد ہی اچھا ہوتا ہے اور وہی طریق عمل اختیار کرنا چاہئے جس میں کوئی فساد نہ ہو کوئی فتنہ نہ پیدا ہو اور کسی پر ظلم نہ ہو۔اس کے سوا کیا ہو یا کیا نہ ہو اس میں