ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 49

49 ہدایات زریں گے تو خفیہ ضرور دیں گے۔کیونکہ ملنے اور واقفیت پیدا کر لینے سے ایک ذاتی تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔اور وہ لوگ جن میں شرافت ہوتی ہے اس کا ضرور لحاظ رکھتے ہیں۔ہمارے مسٹر محمد امین سابق ساگر چند صاحب میں ملنے کی عادت ہے۔وہ لارڈوں تک سے ملتے رہے ہیں اور اب تک خط و کتابت کرتے رہتے ہیں۔تو ملنے جلنے اور واقفیت پیدا کر لینے سے انسان بہت سی باتیں سنا سکتا ہے جو کسی دوسرے ذریعہ سے نہیں سنا سکتا۔اس لئے ہمارے مبلغوں کو اس بات کی بھی عادت ڈالنی چاہئے اور اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ستر ہوئیں ہدایت سترہویں بات یہ ہے کہ مبلغ میں ایثار کا مادہ ہو۔جب تک یہ نہ ہولوگوں پر اثر نہیں پڑتا۔جب ایثار کی عادت ہو تو لوگ خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں۔کئی لوگ کہتے ہیں ہم ایثار کس طرح کریں۔کونسا موقع ہمارے لئے ایثار کا ہوتا ہے مگر اس کے بہت موقعے اور محل ملتے رہتے ہیں۔مثال کے طور پر ہی دیکھ لو کہ ریل پر سوار ہونے والوں کو قریباً ہر اسٹیشن پر وہ لوگ سوار ہونے سے روکتے ہیں جو پہلے بیٹھے ہوتے ہیں۔سوار ہونے والا ان کی منتیں کرتا ہے خوشامد میں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں کھڑا ہی رہوں گا لیکن اسے روکا جاتا ہے اور جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو دیکھا گیا ہے کہ پھر جو سوار ہونے کے لئے آتا ہے اسے سب سے آگے بڑھ کر وہی روکتا ہے اور کہتا ہے یہاں جگہ نہیں ہے ہمارا دم پہلے ہی گھٹ رہا ہے اسی طرح ہر جگہ ہوتا رہتا ہے۔ایسے موقع پر مبلغ ان کا افسر بن کر بیٹھ جائے اور نرمی و محبت سے کہے آنے دیجئے کوئی حرج نہیں بیچارہ رہ گیا تو نہ معلوم اس کا کتنا نقصان ہو۔اور اگر کہیں جگہ نہ ہو تو کہہ دے میں کھڑا ہو جاتا ہوں، یہاں بیٹھ جائے گا۔جب وہ اس بات کے لئے تیار ہو جائے گا اور اس قدر ایثار کرے گا تو اس کا لوگوں پر اثر کتنا ہوگا