ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 40

40 ہدایات زرین کا کیا ڈر ہوسکتا ہے۔گویا نہ تو مد مقابل کو حقیر سمجھنا چاہئے اور نہ مایوس ہونا چاہئے کیونکہ جب خدا تعالیٰ پر اعتماد ہو تو اس کی طرف سے ضرور مدد آتی ہے اور خدا ہی کی مدد ہوتی ہے جس کے ذریعہ انسان دشمن کے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ورنہ کون ہے جوسب دُنیا کے علم پڑھ سکتا ہے؟ پھر کون ہے جو سب اعتراضات نکال سکتا ہے اور پھر کون ہے جو ان کے جوابات سوچ سکتا ہے؟ ہر انسان کا دماغ الگ الگ باتیں نکالتا ہے۔اس لئے خدا پر ہی اعتما درکھنا چاہئے۔کہ وہ ہی ہماری مدد کرے گا اور ہم کامیاب ہوں گے اور ادھر دشمن کو حقیر نہ سمجھا جائے۔جب یہ دو باتیں ایک وقت میں انسان اپنے اندر پیدا کر لے تو کبھی زک نہیں اُٹھا سکتا۔مگر دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ جب ایک دو دفعہ کامیاب ہو جاتے ہیں اور اچھا بولنے لگتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کون ہے جو ہمارا مقابلہ کر سکتا ہے۔ایسا نہیں ہونا چاہئے۔دشمن کو کبھی حقیر نہ سمجھنا چاہئے بلکہ بہت بڑا سمجھنا چاہئے۔ہاں ساتھ ہی یہ بھی اعتقاد ہونا چاہئے کہ اگر دشمن قوی ہے تو میرا مددگار بھی بہت قوی ہے۔اس لئے دشمن میرے مقابلہ میں کچھ نہیں کر سکے گا۔جب یہ دو باتیں انسان میں پیدا ہو جا ئیں تو اول تو خدا اس کے دشمن کی زبان پر کوئی اعتراض ہی جاری نہیں کرے گا اور اگر کر یگا تو اس کا جواب بھی سمجھا دے گا۔ایک دفعہ یہاں ایک انگریز پادری آیا۔والٹراس کا نام تھا۔احمدیت کے متعلق ایک کتاب بھی اس نے لکھی ہے اب مر گیا ہے۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ قرآن انجیل اور توریت کی تصدیق کرتا ہے مگر ان میں آپس میں اختلاف پایا جاتا ہے۔اگر چہ میں قرآن کی تصدیق کرنے کے اور معنے کیا کرتا ہوں اور میرے نزدیک جب ایسے موقع پر لام صلہ آئے تو اس کا اور ہی مطلب ہوتا ہے۔مگر اس وقت میرے دل میں یہی ڈالا گیا کہ کہو ہاں تصدیق کرتا ہے۔اور بتایا گیا کہ وہ کوئی اختلاف