ہدایاتِ زرّیں — Page 22
22 ہدایات زریں جذبات کو اُبھارنے والی وہی تقریر اثر کرے گی کہ جس وقت انسان تقریر کر رہا ہو اس کے اپنے دل میں بھی ایسے ہی جذبات پیدا ہور ہے ہوں کیونکہ دوسروں کے جذبات اس وقت تک نہیں ابھر سکتے جب تک ظاہری الفاظ کے ساتھ اندرونی جذبات بھی نہ ہوں۔اس کے لئے اپنے دل میں بھی ان جذبات کا پیدا کرنا ضروری ہے۔ورنہ ایسی تقریر کا کوئی اثر نہ ہوگا۔اسی طرح عقلی دلائل اس وقت تک اثر نہ کریں گے جب تک ان کے ماتحت انسان خود اپنے اندر تبدیلی نہ پیدا کریگا۔اگر انسان خود تو ان دلائل کے ماتحت تبدیلی پیدا نہ کرے اور دوسروں کو کہے تو وہ ہر گز اس کی باتوں کی طرف توجہ نہ کریں گے۔اور اس کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسا کہ کہتے ہیں کہ کسی لومڑ کی دُم کٹ گئی تھی۔اس نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے تجویز کی کہ سب کی ڈمیں کٹانی چاہئیں اس نے دوسرے لومڑوں کو بتایا کہ دم کی وجہ سے ہی ہم قابو آتے ہیں اس کو کٹا دینا چاہئے تا کہ ہم پکڑے نہ جائیں یہ سنکر سب کٹانے کے لئے تیار ہو گئے کہ ایک بوڑھے لومڑ نے کہا ذرا تم خود تو دکھاؤ کہ تمہاری دم ہے یا نہیں۔اگر ہے تو ہم سب کٹانے کے لئے چلیں اور اگر تمہاری پہلے ہی کٹی ہوئی ہے تو معلوم ہوا کہ تم ہماری بھی کٹوانی چاہتے ہو باقی یونہی باتیں ہی ہیں۔تو عقلی دلائل کا اس وقت تک اثر نہیں ہوتا جب تک کہ خود دلیل دینے والے میں اس دلیل کا ثبوت نہ پایا جاتا ہو۔ایسی صورت میں لوگ یہی کہیں گے کہ بیشک دلیل تو معقول ہے مگر یہ بتاؤ اس کا نتیجہ کیا نکلا اور تم نے اس سے کیا فائدہ اُٹھایا؟ اگر نتیجہ کچھ نہیں اور کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا تو پھر کیوں ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تمہارے مذہب کو قبول کریں اور خواہ مخواہ نقصان اُٹھائیں۔اسی طرح جذبات کو اُبھارتے وقت اگر صرف الفاظ استعمال کئے جاویں اور ان کے