ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 54

54 ہدایات زرین مشاہدہ کا اثر دلائل سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔دیکھو اگر ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ کا اثر بذریعہ کشف دل پر ڈال دیا جائے تو اس کا اتنا اثر ہوگا کہ سارے قرآن کے الفاظ پڑھنے سے اتنا نہ ہوگا کیونکہ وہ مشاہدہ ہو جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ صوفیاء نے کہا ہے ایک آیت پر عمل کرنا بہتر ہے بہ نسبت سارا قرآن پڑھنے کے۔اس کا غلط مطلب سمجھا گیا کہ ایک ہی آیت کو لے لینا چاہئے اور باقی قرآن کو چھوڑ دینا چاہئے۔حالانکہ اس سے مراد وہ اثر ہے جو کسی آیت کے متعلق کشفی طور پر انسان پر ہو۔تو اخلاق کا نمونہ دکھانا بڑی تاثیر رکھتا ہے۔اسی کے متعلق قرآن میں آیا ہے رَبُّمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ ( الحجر : ۳) کفار مسلمانوں کے اخلاق کو دیکھ کر خواہش کرتے کہ کاش ہم بھی ایسے ہو جائیں۔یہ اخلاق ہی کا اثر ہو سکتا ہے کہ کا فربھی مؤمن کی طرح بننے کی خواہش کرتا ہے۔اور جب کوئی سچے دل سے خواہش کرے تو اس کو خدا ان لوگوں میں داخل بھی کر دیتا ہے جن کے اخلاق اسے پسند آتے ہیں۔بائیسویں ہدایت بائیسویں بات مبلغ کے کامیاب ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں ایک حیات اور حرکت ہو۔یعنی اس میں چستی ، چالا کی اور ہوشیاری پائی جائے۔حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ تم جہاں جاؤ آگ لگا دو تا کہ لوگ جاگیں اور تمہاری باتیں سنیں۔پس چاہئے کہ مبلغ کے اپنے جسم میں ایک ایسا جوش اور ولولہ پیدا ہو جائے کہ جو زلزلہ کی طرح اس کے جسم کو ہلا دے اور وہ دوسروں میں زلزلہ پیدا کر دے مبلغ جس گاؤں یا شہر میں جائے وہ سو نہ سکے بلکہ بیدار ہو جائے۔مگر اب تو ایسا ہوتا