ہدایاتِ زرّیں — Page 51
51 ہدایات زریں دلائل کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔لیکن ذوقی دلیل ہوتی تو سچی اور پکی ہے مگر چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ مناسبت ذاتی کے بغیر اس کو سمجھنا ناممکن ہوتا ہے۔اس لئے اس کا مخالف کے سامنے پیش کرنا مناسب نہیں ہوتا۔کیونکہ اگر اس میں بھی ذوق سلیم ہوتا اور اس کا دل اس قابل ہوتا ہے کہ اس بات کو سمجھ سکے تو وہ احمدی کیوں نہ ہو گیا اور کیوں الگ رہتا۔اس کا تم سے الگ رہنا بتاتا ہے کہ اس میں وہ ذوق سلیم نہیں ہے جو تمہارے اندر ہے۔اور ابھی اس کا دل اس قابل نہیں ہوا کہ ایسا ذوق اس کے اندر پیدا ہو سکے۔اس لئے پہلے اس کے اندر یہ ذوق پیدا کرو اور پھر اس قسم کی دلیلیں اسے سناؤ۔ورنہ اس کا اُلٹا اثر پڑے گا۔کئی مبلغ ہیں جو مخالفین کے سامنے اپنی ذوقی باتیں سنانے لگ جاتے ہیں اور اس سے بجائے فائدہ کے نقصان ہوتا ہے کیونکہ مخالف اس کا ثبوت مانگتا ہے تو وہ دیا نہیں جا سکتا اور اس طرح زک اُٹھانی پڑتی ہے۔پس مخالفین کے سامنے ایسے دلائل پیش کرنے چاہئیں جو عقلی ہوں اور جن کی صحت ثابت کی جاسکے۔انیسویں ہدایت انیسویں بات یہ ہے کہ مبلغ کوئی موقع تبلیغ کا جانے نہیں دے۔اسے ایک دھت لگی ہو کہ جہاں جائے جس مجلس میں جائے ،جس مجمع میں جائے تبلیغ کا پہلو نکال ہی لے۔جن لوگوں کو باتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے وہ ہر ایک مجلس میں بات کرنے کا موقع نکال لیتے ہیں۔مجھے باتیں نکالنے کی مشق نہیں ہے اس لئے بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ گھنٹہ گھنٹہ رہنے پر بھی کوئی بات نہیں کی جاسکتی۔حضرت مسیح موعود عام طور پر باتیں کر لیتے تھے مگر پھر