ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 50

50 ہدایات زریں کہ سب ایثار کے لئے تیار ہو جائیں گے اور تھوڑی تھوڑی جگہ نکال کر آنے والے کو بٹھا دیں گے۔اس طرح اسے اپنی جگہ بھی نہیں چھوڑنی پڑے گی اور بات بھی پوری ہو جائے گی۔اس قسم کی باتوں سے مبلغ لوگوں کو ممنون احسان بنا سکتے ہیں۔ایک مبلغ جن لوگوں کو گاڑی کے اندر لائے گا وہ تو اس کے شکر گزار ہوں گے ہی ، دوسرے بھی اس کے اخلاق سے متاثر ہوں گے اور اس کی عزت کرنے لگیں گے۔اور اس طرح انہیں تبلیغ کرنے کا موقع نکل آئے گا۔لیکن اگر اس موقع پر اسی قسم کی بداخلاقی دکھائی جائے جس طرح کی اور لوگ دکھاتے ہیں تو پھر کوئی بات سننے کے لئے تیار نہ ہو گا۔اور نہ تمہیں خود جرات ہو سکے گی کہ ایسے موقع پر کسی کو تبلیغ کر سکو۔ایک سفر میں ایک شخص گاڑی کے اس کمرہ میں داخل ہوا جس میں ہمارے آدمی بیٹھے تھے۔اس کے پاس بہت سا اسباب تھا جب وہ اسباب رکھنے لگا تو بعض نے اسے کہا یہ سیکنڈ کلاس ہے۔اس سے اتر جائیے اور کوئی اور جگہ تلاش کیجئے لیکن وہ خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا۔اور جب اسباب رکھ چکا تو سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ نکال کر ان کو دکھلا دیا اس پر وہ سخت نادم ہو کر بیٹھ گئے۔مجھے سخت افسوس تھا کہ ان لوگوں نے اس قسم کی بداخلاقی کیوں دکھائی۔جب میں نے اس کا جواب سنا تو میرے دل کو بہت خوشی ہوئی۔جس سے اس طرح پیش آئے تھے وہ لوگ تبلیغ کر سکتے تھے اور وہ ان کی باتوں سے متأثر ہوسکتا تھا؟ ہر گز نہیں۔تو ایثار کے موقع پر ایثار کر کے لوگوں میں اپنا اثر پیدا کرنا چاہئے تاکہ تبلیغ کے لئے راستہ نکل سکے۔اس قسم کی اور بیسیوں باتیں ہیں جن میں انسان ایثار سے کام لے سکتا ہے۔اٹھارہویں ہدایت اٹھارہویں بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دلائل دو قسم کے ہوتے ہیں ایک عقلی اور دوسرے ذوقی۔عقل تو چونکہ کم و بیش ہر ایک میں ہوتی ہے اس لئے عقلی