ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 17

17 ہدایات زریں جن کی امداد سے وہ تبلیغ کر سکتا اور کامیاب ہوسکتا ہے۔اس کے راستہ میں روکیں آتی ہیں مشکلات پیدا ہوتی ہے مگر ان دو مدد گاروں سے کام لے کر وہ سب روکوں کو دور کر سکتا ہے۔وہ مددگار کون سے ہیں؟ ان میں سے ایک کا نام تو عقل ہے اور دوسرے کا نام شعور۔جب مبلغ ان دو مددگاروں کی مدد حاصل کرتا ہے تو پھر اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔آگے چل کر میں تشریح کروں گا کہ عقل سے میری کیا مراد ہے اور شعور سے کیا ؟ اس جگہ اتنا ہی بتا تا ہوں کہ یہ مبلغ کے مددگار ہیں۔جب کوئی تبلیغ کے لئے جائے تو ان کو بلالے اور جب ان کی مدد سے حاصل ہو جائے گی تو وہ وہ کام بہت خوبی کے ساتھ کر لے گا جو حکومتیں بھی نہیں کر سکتیں۔عقل کی مدد سے مراد ہر ایک انسان میں خدا نے عقل بھی پیدا کی ہے اور شعور بھی عقل سے میری مرادوہ مادہ اور انسان کے اندر کی وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ انسان دلائل کے ساتھ معلوم کرتا ہے کہ فلاں بات درست ہے یا غلط۔بے شک بعض دفعہ انسان ضدی بن جاتا ہے اور ایک بات کو صحیح اور درست جانتا ہوا اس کا انکار کر دیتا ہے۔لیکن یہ حالت بہت گندا اور بہت دیر کی گمراہی کے بعد پیدا ہوتی ہے ورنہ کثیر حصہ لوگوں کا ایسا ہی ہے کہ عقل کے فیصلہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔جب اس کے سامنے ایسی باتیں پیش کی جائیں جو عقلی طور پر صحیح ثابت ہوں تو وہ ان کا انکار نہیں کر سکتا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کو عقلی لحاظ سے ایک مبلغ معقول اور مدلیل سمجھتا ہے ان کو دوسرے لوگ بھی معقول سمجھتے ہیں بشرطیکہ اندھے کی بصارت کی طرح ان کی عقل بالکل مردہ نہ ہوگئی ہو اور وہ اس کو بالکل مار نہ چکے ہوں۔مگر جس طرح اندھے