ہدایاتِ زرّیں — Page 10
10 ہدایات زریں انہیں موقع ملا ہے، وہ جانتے ہیں کہ دنیا میں دہریت پیدا ہو رہی ہے۔انہیں علم ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو مذاہب کے پیروؤں کو حقیر جانتے ہیں اور مذاہب پر ہنسی اُڑاتے ہیں۔مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اس کی وجوہات کیا ہیں کیوں لوگوں میں ایسے خیالات پیدا ہور ہے ہیں؟ کیوں وہ مذاہب کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ تیسری قسم تیسرا گروہ وہ ہے جس کو یہ تینوں باتیں حاصل ہیں۔اس کی نظر بھی وسیع ہے وہ لوگوں کے خیالات کے عرض سے بھی واقف ہے اور ان کے عمق کا بھی علم رکھتا ہے یعنی ان خیالات کے پیدا ہونے کے جو اسباب ہیں ان سے واقف ہے اور جانتا ہے کہ ظاہری تغیر کے پس پردہ کیا طاقتیں کام کر رہی ہیں۔تینوں قسم کے لوگوں کو مخاطب کرنے کی غرض اس وقت جو باتیں میں کہوں گا وہ ان تینوں گروہوں کو مد نظر رکھ کر ہوں گی اور گو بعض کے لئے ان کا سمجھنا مشکل ہوگا۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک گروہ یعنی طلباء کو سنانے کی یہی غرض ہے کہ اس کے کان میں اس قسم کی باتیں پڑتی رہیں اور اس کے دل میں نقش ہوتی رہیں۔دوسرے دو طبقوں کے لوگ جو اپنی واقفیت اور تجربہ کی وجہ سے ان باتوں کو سمجھ سکتے ہیں ان کو سنانے کی یہ غرض ہے کہ اگر انہیں معلوم نہ ہوں تو اب واقف ہوجائیں اور اگر معلوم ہوں تو ان پر اور غور وفکر کریں اور ان سے اچھی طرح فائدہ اُٹھائیں۔