حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 23
۲۳ يسوع علی مسیح کے دامن کا داغدار ہوتا ان سے برداشت نہیں ہوتا ، ہاں اُس شخص کا جسکا قرآن کریم میں ذکر ہی کوئی نہیں۔ادہر حضرت مرزا صاحب اپنی جھوری کا ذکر ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ :۔اس بات کو ناظرین یاد رکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہمیں اُسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا جیسا کہ وہ ہمارے مقابل پر کرتے ہیں۔عیسائی لوگ در حقیقت ہمارے اس عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے جو اپنے تئیں صرف بنده اور نبی کہتے تھے اور پہلے نبیوں کو راستباز جانتے تھے اور آنے والے نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے اور آنحضرت کے بارے یں پیش گوئی کی تھی بلکہ ایک شخص میسوع نام کو مانتے ہیں جس کا قرآن میں ذکر نہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو بیمار وغیرہ ناموں سے یاد کرتا تھا۔یہ بھی کہتے ہیں کہ شخص ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت مکذب تھا۔اور اُس نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے بسو آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف نے ایسے شخص پر ایمان لانے کے لئے ہیں تعلیم نہیں دی۔بلکہ ایسے لوگوں کے حق میں صاف فرما دیا ہے کہ اگر کوئی انسان ہوکر خدائی کا دعوی کرے تو ہم اس کو جہنم میں ڈالیں گے۔اسی سبب سے ہم نے عیسائیوں کے یسوع کے ذکر کرنے کے وقت اُس ادب کا لحاظ نہیں رکھا جو بچے آدمی کی نسبت رکھنا چاہیئے۔ایسا آدمی اگر نا بینا نہ ہوتا تو یہ نہ کہتا کہ میر سے بعد سب چھوٹے ہی آئیں گے۔اور اگر نیک اور ایماندار ہوتا تو خدائی کا دعوی نہ کرتا۔پڑھنے والوں کو چاہیے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسٰی علیہ السلام کو نہ مجھے لیں بلکہ وہ کلمات اس یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں نام ونشان نہیں۔مجموعه اشتهارات جلد ۲ ،۲۹۵۰، ص ۹