حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب

by Other Authors

Page 19 of 27

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 19

14 طرح طرح کے نا جائزہ حملے کئے جاتے ہیں تو صرف متنبہ کرنے کی خاطر انہیں کی مسلمہ کتابوں سے الزامی جواب دیئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ان لوگوں کو چاہیے کہ ہماری کوئی بات ایسی نکالیں جو حضرت عیسی کے متعلق ہم نے بطور الزامی جواب کے لکھی ہو اور وہ انجیل میں موجود نہ ہو۔آخریہ تو ہم سے نہیں ہوسکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین سن کر چپ رہیں " ملفوظات جلد ۹ ۲۸۰۰۴۷۹) اس پر عیسائیوں نے بعض مصلحت خویش مولویوں کے ذریعہ اسی اعتراض کو مزید شدت سے دہرایا جس کا جواب حضرت مرزا صاحب نے ایک اشتہار مورخہ ۲۰ ؍ دسمبر شہداء کو شائع کیا جس میں یہ وضاحت فرمائی : ہم نے اپنی کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی مسوع مراد لیا ہے اور خدا تعالے کا ایک عاجز بنده عیسی ابن مریم جونبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے بعض نادان موادی جن کو اندھے اور نابینا کہنا چاہیئے۔عیسائیوں کو معذور رکھتے ہیں کہ وہ بے چارے کچھ بھی منہ سے نہیں بولتے اور آنحضرت اللہ علیہ وسلم کی کچھ بے ادبی نہیں کرتے لیکن یاد رہے کہ درحقیقت پادری صاحبان تحقیر اور توہین اور گالیاں دینے میں اول نمبر یہ ہیں۔ہمارے پاس ایسے پادریوں کی کتابوں کا ایک ذخیرہ ہے جنہوں نے اپنی عبارت کو صدہا گالیوں سے بھر دیا ہے جس مولوی کی خواہش ہو وہ آکر دیکھ لیو سے اور یاد رہے کہ آئندہ جو پادری صاحب گالی دینے کے طریق کو چھوڑ کر ادب سے کلام کریں گے ہم بھی ان کے ساتھ ادب سے پیش آئیں گے اب تو وہ اپنے یسوع پر آپ محملہ کر رہے ہیں۔کہ کسی طرح سب وشتم سے باز ہی نہیں آتے