حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب

by Other Authors

Page 18 of 27

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 18

بغیر اسکی کہ فریق مخالف ی معتبر کتابوں کا حوالہ سے ہرگز اعتراض کے لئے قلم نہ اُٹھاوے۔اور یا یہ کہ قطعا ایک فریق دوسرے فریق کے مذہب پر عمل نہ کر سے بلکہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کریں۔البلاغ - روحانی خزائن جلد ۱۳ مه) آپ نے تحریر و تقریر کے ذریعہ عیسائیت کا قرآن کریم ، احادیث نبویہ، بائیبل، اناجیل، تاریخ ، طب ، منطق اور معقولی دلائل سے رو پیش کیا اور اپنے ان دلائل پر قوانین قدرت کو بھی گواہ ٹھہرایا اور ان پرا مین کو خدا تعالیٰ نے تائیدی نشانوں کے ذریعہ غلبہ عطا گیا۔آپ کے اس جہاد کے ہتھیاروں میں ایک وسیع ، دقیق، گہرا اور حقیقت افروز مطالعہ بھی تھاجس کے مقابل پر عیسائیوں کی ہر کوشش ناکام نا مراد رہی۔آپ نے علمی دلائل کے ساتھ ساتھ الزامی طریہ جواب بھی اختیار کیا لیکن اس دفاعی عمل میں آپ کی تحریر دی میں ایک سچائی، حکمت اور معقولیت کا عنصر نمایاں ہے۔نیز یہ کہ آپ نے جو بیان کیا عیسائیوں کے اپنے مسلمات سے ہی بیان کیا۔پادریوں کو جب احساس شکست ہوا تو انہوں نے آپ پر یہ الزام لگا کر آپ کو اس منظر سے ہٹانے کی کوشش کی کہ آپ نے دنعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کی ہے اور آپ کی شان میں گستاخی کی ہے۔آپ نے جواباً فرمایا :- آپ کا یہ فرمانا کہ گویا حضرت مسیح کے حق میں میں نے گالی کا لفظ استعمال کر کے ایک گونہ بے ادبی کی ہے۔یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ہمیں حضرت مسیح کو ایک سچا نبی اور برگزیدہ اور خدا تعالٰی کا ایک پسیارا بندہ سمجھتا ہوں وہ تو ایک الزامی جواب آپ ہی کے مشرب کے موافق تھا اور آپ ہی پر وہ الزام عاید ہوتا ہے نه که مجد پرید جنگ مقدس روحانی خزائن جلده منشا ) نیز بستر مایا : جب ہمارا دل بہت کھایا جاتا ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر