حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب

by Other Authors

Page 24 of 27

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 24

۲۴ پس یہ تو وہ شخصیت تھی جس کا نام میسوع تھا اور اناجیل میں اس کا تفصیلی ذکر ہے۔لیکن قرآن کریم جس نبی اللہ صلی علیہ اسلام کا ذکر فرماتا ہے آپ نے اُن کی بندشان اور عظیم مرتبہ کا ذکر کثرت سے بیان فرمایا ہے اور اسی عظیم الشان ذات کا خود کو تیل اور برونہ اور اپنا بھائی قرار دیا ہے۔اور اس عظیم الشان نبی کی موت تکریم کا جگہ جگہ ذکر فرمایا۔ان میں سے چند عبارت میں پیش کر کے ہم اس بیان کو ختم کر تے ہیں۔حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں :- و مسیح خدا کے نہایت پیار سے اور نیک بندوں میں سے ہے۔اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں۔اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا۔اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔لیکن جیسا کہ گمان کیا گیا ہے خدا نہیں ہے۔ہاں خدا سے واصل ہے اور ان کا ملوں میں سے ہے جو تھوڑے ہیں۔ر تحفہ قیصریه - روحانی خزائن جلد ۱۲ ص ۲۳) ہم لوگ پادری صاحبوں کے مقابل پر کیا سختی کر سکتے ہیں کیونکہ جس طرح ان کا فرض ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی بزرگی اور حرات مانیں ایسا ہی ہمارا بھی فرض ہے ہم لوگ صرف خدائی کا منصب خداتعالی کے لئے خاص رکھ کہ باقی امور میں حضرت علی علیہ السلام کو ایک صادق اور راستباز اور ہر ایک ایسی عورت کا استحق سمجھتے ہیں جو نیچے نبی کو دینی چاہیئے یہ ١٥٣ (کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ م) میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتا ہوں۔کیونکہ میں روحانیت کی رو سے اسلام میں خاتم الخلفاء ہو جیسا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا۔موٹی کے سلسلہ میں ابن مریم سیخ موجود تھا۔اور محمدی سلسلہ میں میں مسیح مود ہوں۔