حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 17
ثالثا۔اسی طرح بانیان مذاہب کی تحقیر و تخفیف کے طریق کو چھوڑ کر ان کی صفات اور ان کے محامد بیان کئے جائیں۔صلح و آشتی سے معمور اس طریق کو قبولیت ہوئی لیکن سیاہ باطن اور دریدہ دہن پادریوں نے اپنی دریدہ دہنی کے مظاہرے جاری رکھے۔شہداء میں ایک عیسائی احمد شاہ نے کتاب امہات المومنین" کے نام سے شائع کی جس میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی شان میں سخت توہین آمیز زبان استعمال کی گئی جس کی زیر نگینی اس قدر شدید تھی کہ ہر سلمان تلملا اٹھا اور سخت مشتعل ہوا۔اس کے ردعمل کے طور پر انہوں نے گورنمنٹ سے اس کتاب کی ضبطگی کے مطالبے کئے۔حضرت مرزا صاحب نے مسلمانوں کو یہ مجھایا کہ کتاب تو عوام الناس تک پہنچ چکی ہے اور وہ اپنا یک اثر بھی دکھاچکی ہے۔اب اگر یہ کتاب ضبط بھی کی گئی تو جس بنیاد پر اس کی ضبطگی کا مطالبہ حکومت وقت سے کیا گیا ہے۔اسی بنیاد پر لانگا اس کا جواب بھی اشاعت سے قبل ضبط ہو جائے گا۔اس لئے اب اسکی ضبطگی کے مطالبہ کا کوئی فائدہ نہیں۔پس اشتعال کی بجائے ایسی لغو تحریروں کا علمی رنگ میں موثر رد پیش کر کے ان کے بداثر کو زائل کرنا چاہیئے۔آپ نے فرمایا :- ہماری رائے ہمیشہ سے یہی ہے کہ نرمی اور تہذیب اور معقولی اور حکیمانہ طرز سے حملہ کرنے والوں کا رد لکھنا چاہیئے۔اور اس خیال سے دل کو خالی کر دینا چاہیئے کہ گورنمنٹ عالیہ سے کسی فرقہ کی گوشمالی گرا دیں۔مذہب کے حامیوں کو اخلاقی حالت دکھلانے کی بہت ضرورت ہے۔اس طرح پر مذہب بدنام ہوتا ہے کہ بات بات میں ہم اشتعال ظاہر کرین البلاغ روحانی خزائن جلد ۱۳ م) است یا - اس کے ساتھ ہی آپ نے حکومت وقت کو پیغام دیا کہ :۔گورنمنٹ عالیہ فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لئے دو تجویزوں میں سے ایک تجویز اختیار کرے کہ یا تو ہر ایک فریق کو ہدایت ہو جائے کہ کسی اعتراض کے وقت