حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 31
31 روپے کی سخت ضرورت ہے۔میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ اس کی رقم اسے دے دیں۔اُس نے کہا اچھا میں ابھی لاتا ہوں، چنانچہ وہ اندر گیا اور روپیہ لا کر اُس نے بدوی کو دے دیا۔جب اس کے دوستوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اُسے طعنہ دیا کہ تم تو ہمیں کہتے تھے کہ اُن کا مال کھانا جائز ہے۔مگر تمہاری اپنی یہ حالت ہے کہ روپیہ فور الا کر دے دیا تم نے یہ کیا کیا؟ ہم نے تو اُس کو ذلیل کرنے کے لئے یہ منصوبہ بنایا تھا۔مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُلٹا ہم ذلیل ہو گئے۔جس دوستوں نے اُسے یہ طعنہ دیا تو روایتوں میں آتا ہے۔ابوجہل نے انہیں جواب دیا کہ خدا کی قسم جب محمد صلاقہ میرے پاس آئے تو میں نے دیکھا کہ آپ کے دائیں اور بائیں دومست اونٹ کھڑے ہیں اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ اگر میں نے انکار کیا تو یہ دو اونٹ مجھ پر حملہ کر دیں گے۔اس لئے میں ڈرا اور میں نے روپیہ لا کر دے دیا۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صل اللہ سے پوچھا گیا کہ یارسول اللہ صل اللہ کیا جاہلیت کی کوئی ایسی بات ہے جسے آپ پسند فرماتے ہیں، آپ نے جواب دیا ہاں حلف الفضول ایک ایسی چیز تھی کہ آج میں اُسے اسلام میں بھی پسند کرتا ہوں پھر آپ نے فرمایا کودُ عِیتُ الآنَ لَا حَبْتُ “اگر اب بھی میں اُس کی طرف بلایا جاؤں تو میں اُس میں ضرور حصہ لوں۔“ ( تفسیر کبیر جلد دہم صفحہ 144-145)