حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 26 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 26

26 بچے کھیل کے واسطے پتھر اٹھا رہے تھے جیسا کہ بچوں کا قاعدہ ہے انہوں نے اپنے تہبند کھول کر کندھوں پر رکھ لئے تھے تا کہ اُن پر پتھر ڈھوڈھو کر لائیں میں نے بھی چاہا کہ میں بھی اپنا تہبند اپنے کندھوں پر رکھ کر پتھر اٹھاؤں کہ غیب سے ایک طمانچہ میرے لگا جس سے مجھ کو نہایت صدمہ پہنچا اور غیب سے آواز آئی کہ اپنے تہبند کو مضبوط باندھ لوپس میں نے اُس کو مضبوط باندھ لیا اور گردن پر پتھر اٹھانے لگا۔حالانکہ میرے سب ساتھی اسی طرح پتھر اُٹھا رہے تھے اور اُن سب میں فقط ایک میں ہی تہبند باندھے ہوئے تھا۔“ (ابن ہشام صفحہ 119) ایک واقعہ اور سنو جس سے حیرت انگیز طور پر اللہ تعالیٰ کا اپنی قدرتوں سے آپ کو شرک سے بچانا ظاہر ہوتا ہے۔عرب میں ایک سالانہ تقریب ہوا کرتی تھی۔اُن کا ایک بُت تھا' بوانہ۔اُسی کے نام سے یہ تقریب تھی بس بالکل عید سمجھ لو۔نوعیت بھی مذہبی تھی اس لئے سب کا شریک ہونا ضروری تھا مگر آپ کے دل میں خدا تعالیٰ نے ڈال دیا کہ آپ اس میں شریک نہیں ہوں گے۔بچی نے ، چچانے ، دوسرے چچاؤں نے، چھوٹے بڑے سب نے اصرار کیا مگر آپ اس تقریب پر جانے کے لئے رضا مند نہ ہوئے زیادہ اصرار سے تنگ آکر رونے والے ہو گئے اور اپنے چچا سے کہا مجھے ایسی جگہوں پر جانا بالکل پسند نہیں۔مجھے خوف آتا ہے۔نہ میں وہاں جاؤں گا اور نہ وہاں کا کھانا کھاؤں گا۔ابوطالب کو بچے کی دلداری منظور تھی۔کہہ دیا کہ کوئی بات نہیں تم اُم ایمن کے ساتھ گھر میں رہو میں سب کو سمجھالوں گا۔تو اس طرح بچو! ایک مشرکانہ تقریب میں شرکت سے اللہ پاک نے آپ کو بچایا اور اصرار کرنے والے اس بات کے گواہ ٹھہرے کہ آپ بچپن سے اللہ کے سوا کسی کو اہمیت نہ دیتے تھے۔ایک دفعہ ایک اور فضول تقریب سے اللہ پاک نے آپ کو بچایا۔وہ اس