حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 30 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 30

30 قسم کھائی تھی۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ غریبوں کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔روایات میں آتا ہے کہ ایک بدوی تھا جس سے ابو جہل نے کچھ سامان لیا تھا مگر اُس کی رقم اُسے نہ دی تھی۔وہ بدوی مکہ میں آتا اور شور مچاتا کہ ہم باہر سے آتے ہیں۔اپنا سودا یہاں فروخت کرتے ہیں مگر مکہ کے یہ لوگ جو بیت اللہ کے محافظ اور مذہبی آدمی سمجھے جاتے ہیں ہم پر اس رنگ میں ظلم کرتے ہیں اور جب لوگ اُس سے دریافت کرتے کہ کیا ہوا۔تو وہ کہتا کہ ابو جہل نے میری اتنی رقم دینی ہے مگر وہ نہیں دیتا ایک تو وہ آدمی کم عقل سا تھا دوسرے یوں اُس کا نقصان بھی کافی ہوا تھا جب وہ اس طرح بار بار شور مچاتا تو ایک دن لوگوں نے مشورہ کیا کہ اسے محمد صل اللہ کے پاس بھیج دو اور اُسے کہا کہ وہ ابو جہل سے تقاضا کرنے کے لئے آپ کو ساتھ لے جائے اُن کی نیت نیک نہیں تھی اُن کا منشاء صرف یہ تھا کہ اگر محمد متلاللہ اُس کے ساتھ نہ گئے تو ہم کہیں گے کہ دیکھو آپ نے غریبوں کی مدد کے لئے قسم کھائی ہوئی تھی۔مگر اُس کو پورا نہ کیا اور اگر گئے تو ابو جہل آپ کی بات نہیں مانے گا۔آپؐ نعوذ باللہ ذلیل ہوں گے۔بہر حال انہوں نے اُس بدوی کو رسول کریم صل اللہ کے پاس بھیجوا دیا جب رسول کریم ملالہ نے اُس کے حالات سنے تو آپ نے اُسی وقت اپنی چادر سنبھالی اور اُس بدوی کے ساتھ چل پڑے۔ابو جہل کے دروازے پر پہنچ کر آپ نے دستک دی جب وہ باہر آیا تو آپ نے فرمایا اس بدوی کی رقم آپ نے دینی ہے اسے