حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 29 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 29

29 ہوازن ہو گئے۔جن کا سردار حرب بن امیہ تھا۔یہ جنگ بڑے جوش و خروش سے جاری رہی۔لمبا عرصہ چلی۔جب یہ جنگ ہو رہی تھی حضرت رسول کریم صل اللہ کی عمر مبارک قریباً پندرہ سال تھی۔( چودہ پندرہ سال سیرت ابن ہشام صفحہ 119 ، ہیں سال سیرت خاتم النبین صفحہ 104) آپ اس جنگ میں شامل ہوئے مگر صرف اس قدر کہ اپنے چچاؤں کو تیر پکڑاتے تھے۔آپ نے کسی پر ہاتھ نہیں اُٹھایا تھا۔یہ لڑائی حرب فجار کے نام سے مشہور ہے۔حرب فجار میں بہت لوگ زخمی ہوئے۔ان گنت مارے گئے۔مالی نقصان بھی بہت ہوا۔آپ کے چچا زبیر بن عبدالمطلب کو خیال آیا کہ قدیم زمانے میں امن قائم کرنے کے لئے جو عہد حلف الفضول کے نام سے کیا جاتا تھا اُسے پھر سے تازہ کیا جائے چنانچہ چند دردمند لوگ ایک شخص عبداللہ بن جدعان کے مکان پر جمع ہوئے۔ان میں ہمارے پیارے آقا بھی شامل تھے۔سب نے ان الفاظ میں قسمیں کھائیں۔وہ مظلوم کی مدد کریں گے اور اُن کے حق کو لے کر دیں گے۔جب تک کہ سمندر میں ایک قطرہ پانی کا موجود ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے تو وہ خود اپنے پاس سے مظلوم کا حق ادا کریں گے۔“ وو (دیباچہ تفسیر القرآن صفحه 110) کچھ عرصے کے بعد وہ نوجوان اس معاہدے کو بھول گئے لیکن رسول کریم ملالہ تو سچے آدمی تھے اور معاہدوں کا پاس رکھنے والے تھے۔آپ کو یہ معاہدہ یا درہا جب آپ نے دعوی کیا تو ایک دن بعض مخالفوں نے شرارتا یہ چاہا کہ آپ کا امتحان لیا جائے۔انہوں نے سوچا کہ آپ نے بھی غریبوں کی حمایت کیلئے