حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 28
28 میں شرکت کا ارادہ کیا مگر دونوں دفعہ روک دیا گیا۔(طبری) پیارے بچو! آپ نے دیکھا اللہ تعالیٰ کی کفالت اور تعلیم وتربیت نے کیسا ہیرا تر اشا۔دنیا نے آپ سے بہتر انسان نہ کبھی دیکھا تھا، نہ کبھی دیکھے گی۔آپ پر لاکھوں کروڑوں درود و سلام ہوں۔وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا الله نام اُس کا ہے محمد صلا دلبر میرا یہی ہے یہ تو بہت کم عمری کی حسین باتیں تھیں آپ کچھ بڑے ہوئے تو آپ کی معاملہ نہی اور صلح پسندی جیسے اوصاف نے بھی سب کو بہت متاثر کیا۔عرب قبیلے آپس میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑنے لگتے۔کبھی کسی تقریب یا میلے میں میل جول کے وقت کسی بات پر اختلاف ہو جاتا۔یہ اختلاف جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتا اور یہ جھگڑے بعض دفعہ بہت لمبے چلتے اور لمبی جنگوں کی شکل اختیار کر لیتے۔کوئی قبیلہ ہار مان کر یا جھک کر صلح کرنے پر آمادہ نہ ہوتا۔ہر قیمت پر جنگ جاری رکھنے کو بہادری سمجھا جاتا۔اُن کے ہاں ایک رسم جاری تھی۔جب قبائل کی آپس میں کسی بات پر ٹھن جاتی تو وہ ایک بڑے پیالے میں خون بھر لیتے اور اپنی انگلیاں خون میں ڈیوڈ بو کر قسمیں کھاتے کہ لڑائی ہوئی تو جان دے دیں گے مگر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اب ہم آپ کو ایک ایسی لڑائی کا حال سنائیں گے۔جو ایک معمولی بات پر شروع ہو کر طویل ہوگئی۔مکہ سے مشرق کی طرف کچھ فاصلے پر ایک میلہ عکاظ لگا کرتا تھا یہ میلہ کئی لحاظ سے بڑا مشہور تھا اور اس میں دُور دُور سے لوگ شرکت کرنے آتے تھے۔کے ہلتے گلے میں جھگڑا شروع ہوا ایک طرف قبیلہ بنو کنانہ اور قبیلہ قریش کے لوگ ہو گئے۔ان کا سردار زبیر بن عبد المطلب تھا۔دوسری طرف قبیلہ قیس عیلان اور قبیلہ