حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 27 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 27

27 طرح کہ عرب میں دستور تھا کہ سر شام کھلی جگہ پر جمع ہو جاتے۔رات بھر قصے، کہانیاں ،شعر گوئی، ناچ ، گا نا چلتا رہتا۔آپ کو پتا ہے کہ عرب میں گرمیوں میں دن کے وقت بے حد گرمی ہوتی ہے اور راتیں نسبتاً ٹھنڈی اور پرسکون ہوتی ہیں اس لئے عام طور پر اُن کی محفلیں راتوں کو جمتیں۔ایک نکاح کی تقریب ہو رہی تھی آپ بھی اتفاقاً چلے گئے مگر جاتے ہی ایسا نیند کا غلبہ ہوا کہ ساری رات سوتے رہے۔صبح آنکھ کھلی، کوئی فضول منظر نہ دیکھا۔جو اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرما تا کہ وہ فضول کاموں میں وقت ضائع کریں۔صلى الله آپ کی عادتیں اتنی پیاری تھیں کہ ہر طرف تذکرہ ہونے لگا تھا کہ محمد اچھے بچے ہیں۔آپ فرمانبردار ہیں، سچ بولتے ہیں، بزرگوں کا ادب کرتے ہیں، چھوٹوں سے لڑتے جھگڑتے نہیں ، جس چیز پر حق نہ ہو استعمال نہیں فرماتے ، کوئی اپنی چیز رکھوائے تو حفاظت سے رکھ کر ویسے ہی واپس کر دیتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ میں ایک ایسی خوبی تھی جو فوراً دوسروں کے دلوں میں گھر کر لیتی۔آپ غریبوں کے بہت ہمدرد تھے اور ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے۔مکہ میں ہرقسم کی برائیاں عام تھیں۔مگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہر طرح کی برائیوں سے بچا کر نیکیوں کی راہ پر ڈالتا رہا۔اور لوگوں کے دل میں آپ کی قدر اور محبت میں اضافہ فرما تا رہا۔بچو! آپ سوچیں کہ سر پر ماں باپ اور دادا کا سایہ نہ تھا صرف چچا تھے جو بہت بڑے خاندان کے سر پرست تھے ، مصروف رہتے تھے اور وہ تھے بھی بت پرست۔تو اس معصوم حسین بچے کو کون سی طاقت سنبھال رہی تھی ، یقینا اللہ تعالی آپ خود فرماتے ہیں۔میں نے ساری عمر میں صرف دو دفعہ اس قسم کی مجلس