حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 20 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 20

20 آپ کبھی کسی اسکول میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ایک تو اس وقت با قاعدہ اسکولوں کا رواج نہ تھا دوسرے اس پیارے وجود کی تعلیم و تربیت خدا تعالیٰ نے خود کی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ بچوں کا پہلا سہارا ماں باپ ہوتے ہیں۔آپ کے والد فوت ہو گئے۔اللہ تعالیٰ آپ کا سہارا تھا۔آپ کی والدہ فوت ہوگئیں۔اللہ تعالیٰ نے دکھایا کہ پالنے والا میں ہوں۔پھر عبدالمطلب کے دل میں پیار ڈال دیا۔اس طرح آپ کو محرومی کا احساس نہ ہونے دیا۔بلکہ آپ زیادہ لاڈ پیار میں پہلے۔دادا پوتے کا عجیب پیار تھا۔خانہ کعبہ کا طواف کرتے تو آپ کو کندھے پر بٹھا لیتے۔اس وقت تک کھانا شروع نہ کرتے جب تک نھا پوتا کھانے میں شریک نہ ہوتا۔آپ کو یہ سر پرستی بھی زیادہ عرصہ میسر نہ آئی۔عبدالمطلب بوڑھے ہو چکے تھے۔آپ اُس وقت آٹھ ، یا نو سال کے تھے۔عبدالمطلب نے وفات سے کچھ دیر پہلے اپنے بیٹے ابو طالب کو بلایا اور فرمایا میں تم پر دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ اعتبار کرتا ہوں۔یہ میری امانت ہے۔اسے اپنے بچوں کی طرح پالنا۔دیکھنا اس کا دل میلا نہ ہو۔“ ( تفسیر کبیر جلد دہم صفحہ 218) عبدالمطلب نے حضرت عبداللہ کے سگے بھائی ابوطالب کو یہ امانت سونپ کر 82 سال ( بعض روایات کے مطابق ایک سوسال ) کی عمر میں وفات پائی۔ان کا الله جنازہ اٹھا تو ڈر یتیم محمد صل للہ ساتھ ساتھ تھے اور آپ کے آنسو بہتے جاتے تھے۔یہ عام الفیل کے بعد آٹھواں سال تھا۔ابوطالب نے اس روتے ہوئے غمگین و پریشان الله بچے حضرت محمد صلاہ کو اپنے سینے سے لگایا اور بڑے پیار سے کہا تم بھی میرے بچے ہو۔میرے دوسرے بچوں کے ساتھ میرے