سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 3
3 2 صحابہ کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اس کے بعد قریش اور مسلمانوں کے درمیان صلح کا معاہدہ طے پایا کہ مسلمان اگلے سال آ کر کعبہ کا طواف کر لیں۔یہ تھے حضرت عثمان بن عفان جو قریش کے قبیلہ بنو امیہ سے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے سفیر حضرت عثمان بن عفان کوئی معمولی انسان نہ تھے۔سرخ و سفید خوبصورت چہرہ والا یہ نوجوان ایام جاہلیت میں بھی اچھے کردار کا مالک تھا۔انہوں نے شروع میں ہی اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو ان ابتدائی مسلمانوں کے گروہ میں شامل کر لیا تھا جن کی قرآن کریم نہایت قابل رشک الفاظ میں تعریف فرماتا ہے۔انہوں نے خدا کی راہ میں بے دریغ مال خرچ کیا۔وہ بہت با حیا اور شریف انسان تھے۔ان کی خوبیوں کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔وہ بہت نرم دل رکھتے تھے۔انہوں نے ہزاروں غلاموں کو آزاد کیا۔مدینہ میں کوئی گلی ایسی نہ تھی جہاں ان کا خرید کردہ آزاد غلام چلتا پھرتا نظر نہ آئے۔وہ کاتب وحی اور قرآن کریم کے ابتدائی حفاظ میں سے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں سے یکے بعد دیگرے آپ کی شادی ہوئی۔انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر اس قدر خدمت اسلام کی توفیق ملتی رہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے متعلق فرمایا : وہ اب جو چاہے کرے خدا اس کو نہیں پوچھے گا۔جس کا مطلب تھا کہ اب اس سے اللہ کی مرضی کے خلاف کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان دس خوش نصیب مہاجرین میں شامل فرمایا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس شوریٰ کے رکن تھے اور جن پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص اعتماد تھا اور انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی تھی ، اس لیے عشرہ مبشرہ کہلائے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے اور حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد حضرت عمر خلیفہ ہوئے۔ان دونوں خلافتوں کے دوران حضرت عثمان ان کے مشیر اور امین و معتمد رہے حتی کہ حضرت عمر کی شہادت کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلیفہ بنایا۔اس وقت آپ کی عمر ستر سال تھی۔بڑھاپے کے باوجود خلافت کی ذمہ داریاں پوری وفا کے ساتھ نبھاتے رہے۔ان کے عہد خلافت میں اسلامی سرحدوں میں مزید وسعت پیدا ہوئی۔اسلام کا پیغام معلوم دنیا تک پہنچ گیا۔حضرت عثمان کو قرآن سے خاص عشق تھا۔آپ نے سارے عالم اسلام میں قرآن کریم کی اشاعت کا سنہری کارنامہ سرانجام دیا۔پہلا بحری بیڑا بھی عہد عثمانی میں ہی بنا۔خدا کی راہ میں آپ آزمائے بھی گئے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے شہادت کے اعلیٰ مقام پر سرفراز فرمایا۔شہادت سے ایک رات پہلے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں فرمایا تھا کہ عثمان آج شام روزہ ہمارے ساتھ کھولنا۔شہادت کے وقت آپ کی عمر بیاسی سال تھی۔آپ سچے عاشق قرآن تھے۔جب آپ کو شہید کیا گیا اس وقت آپ قرآن کریم کی تلاوت فرما رہے تھے۔آپ نے ایک بھر پور خدمت دین سے معمور زندگی گزاری۔خدا کی ہزاروں ہزار رحمتیں ہوں حضرت عثمان پر جنھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی میں اپنے عہد کو خوب نبھایا اور مصائب اور مشکلات میں بھی صبر و رضا کا دامن نہ چھوڑا اور اپنا معاملہ خدا کے سپرد کر دیا۔آؤ بچو! آپ کو حضرت عثمان کی کہانی سنائیں! ابتدائی حالات حضرت عثمان قریش کے قبیلہ بنو امیہ میں اصحاب الفیل کے واقعہ سے پانچ سال بعد سن 575 عیسوی میں مکہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام عفان اور والدہ صاحبہ کا نام اروی تھا۔آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں پانچ سال اور حضرت ابو بکڑ سے اڑھائی سال چھوٹے تھے جب کہ حضرت عمرؓ سے آپ آٹھ سال اور حضرت علی سے 25 سال بڑے تھے۔