سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 2
پیش لفظ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت ﷺ کے تیسرے خلیفہ تھے۔آپ نہایت نرم دل ، باحیا اور مالدار ہونے کے ساتھ ساتھ خدمت خلق میں بہت آگے تھے۔خلافت سے پہلے اور بعد کئی مواقع پر آپ نے مسلمانوں کی مالی معاونت فرمائی۔رسول کریم ﷺ نے آپ کے حق میں جنت کی بشارت بھی فرمائی۔آپ ایک قابل تقلید نمونہ ہمارے لئے چھوڑ گئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تمام خلفاء کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہجرت مدینہ کے چھٹے سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔چنانچہ ذی قعدہ 6 ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چودہ سو صحابہ کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔قریش کو علم ہوا تو انہوں نے مقابلہ کی تیاریاں شروع کر دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے قریب پہنچ کر حدیبیہ کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ سے مشورہ مانگا۔صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت عمرؓ کو سفیر بنا کر بھیجا جائے تا وہ قریش کو سمجھائیں کہ ہم صرف زیارت کعبہ اور عمرہ کے لیے آئے ہیں لڑنا ہمارا مقصد نہیں۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کو ایسے شخص کا نہ بتاؤں جو اس کام کے لیے زیادہ موزوں ہے اور قریش کی نظر میں خاص عزت رکھتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں بتاؤ وہ شخص کون ہے؟ حضرت عمرؓ نے حضرت عثمان کا نام لیا۔حضور نے حضرت عمرؓ کی تجویز کو منظور فرمایا۔اس طرح حضرت عثمان وہ خوش قسمت شخص ٹھہرے جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا سفیر بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا۔لیکن جب ان کے آنے میں دیر ہوگئی اور یہ سمجھ لیا گیا کہ شاید انہیں قریش نے شہید کر دیا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بدلہ لینے کا فیصلہ فرمایا اور ایک درخت کے نیچے صحابہ سے بیعت لی اور آخر میں اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر حضرت عثمان کی طرف سے بیعت لی۔یہ بیعت رضوان اور بیعت شجرہ کے نام سے مشہور ہے۔لیکن تھوڑی دیر بعد ان کے واپس آجانے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور